ذاتی و مفاداتی سیاسی ایجنڈوں کو مسترد کرنا ضروری ہے‘ فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260101-08-26
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے منفی پروپیگنڈے کے تدارک میں سول سوسائٹی کی کاوشوں کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ذاتی و مفاداتی سیاسی ایجنڈوں کو مسترد کرنا ناگزیر ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز(جی ایچ کیو) میں بلوچستان پر 18ویں نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے ملاقات کی اور تبادلہ خیال کیا۔ فیلڈ مارشل نے بلوچستان کے عوام کی ثابت قدمی اور حب الوطنی کو سراہا اور کہا کہ صوبہ بلوچستان پاکستان کی خوش حالی اور ترقی میں کلیدی کردار رکھتا ہے۔فیلڈ مارشل نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے جاری وسیع تر اقدامات کی تعریف کی اور عوامی فلاح پر مبنی پالیسیوں پر زور دیا جن کا مقصد صوبے کے سماجی و معاشی حالات بہتر بنانا اور عوام کے مفاد میں اس کے وسیع معاشی امکانات کو بروئے کار لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے حمایت یافتہ پراکسی عناصر بلوچستان میں تشدد کو ہوا دے رہے اور ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، ایسے مذموم عزائم کو سیکورٹی فورسز کی بھرپور کارروائیوں کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا اور صوبے کو دہشت گردی و بدامنی سے پاک کیا جائے گا۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کی علاقائی سالمیت کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی، چاہے وہ براہ راست ہو یا بالواسطہ، کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز