2025ء : جمہوری ادارے برقرار‘ عملی طور پر کمزور ہوئے‘پلڈاٹ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پلڈاٹ نے سال 2025ء کے اختتام پر جمہوریت کے معیار پر جائزہ رپورٹ جاری کر دی۔پلڈاٹ کی رپورٹ کے مطابق 2025 ء کے دوران جمہوری ادارے برقرار مگر عملی طور پر کمزور ہوتے گئے، ہائبرڈ طرز حکمرانی کو پاکستان میں مزید استحکام حاصل رہا، پاک بھارت تصادم کے بعد ریاستی امور میں سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کا اثر بڑھ گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ سویلین حکومت نے ہائبرڈ طرز حکمرانی کی مکمل حمایت کی، علاقائی کشیدگی اور داخلی شورش نے پاکستان کو سیکورٹی اسٹیٹ کی طرف دھکیلا، جمہوری ادارے سیکورٹی ترجیحات کے دائرے میں کام کرنے پر مجبور رہے،27ویں آئینی ترمیم محدود بحث کے ساتھ منظور کی گئی جس سے پارلیمنٹ کمزور ہوئی۔پلڈاٹ کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے عہدے خالی رہے، انتظامی اختیارات رسمی طور پر سویلین مگر عملی طور پر محدود رہے، 2025 ء میں عدلیہ کو بڑی آئینی اور ساختی تبدیلیوں کا سامنا رہا، فوجی عدالتوں کا تسلسل اور نئی آئینی عدالت شفاف انصاف پر سوالیہ نشان ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ قومی فیصلوں میں سیکورٹی اداروں کا کردار مزید نمایاں ہو گیا، ضمنی انتخابات ہوئے مگر کم ووٹر ٹرن آؤٹ نے عوامی اعتماد متاثر کیا، سیاسی جماعتیں خاندانی کنٹرول اور کمزور داخلی جمہوریت کا شکار رہیں، مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی نچلی سطح پر جمہوریت کے لیے بڑا نقصان ہے۔اسی طرح رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ پیکا قانون میں ترامیم کے بعد میڈیا کی آزادی مزید محدود ہو گئی، اختلافِ رائے کو 2025 میں قومی مفاد کے خلاف سمجھا جاتا رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔