Jasarat News:
2026-06-02@22:04:49 GMT

پی آئی اے ’’گِریہ چاہے ہے خرابی میرے کاشانے کی‘‘

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260101-03-5
پاکستان کی قومی شناخت کا حامل ادارہ اس کا فضائی سفیر پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنز بھی آخر کار نیلام ہو گیا۔ اچھا ہوا کہ گھر کی بات گھر میں رہی اور کوئی غیر ملکی ہماری قومی ائر لائن کو نہیں لے اْڑا۔ پی آئی اے کی نیلامی کی خبروں میں اَسّی کی دہائی میں ہاکی میچ کی کمنٹری کے سنے گئے الفاظ ایک بار پھر یوں کانوں میں گونجنے لگے ’’گیند سلیم اللہ سے کلیم اللہ کے پاس اور سیلم اللہ سے پھر کلیم اللہ کے پاس‘‘۔ یقین نہ آئے تو نجم سیٹھی کا یہ تبصرہ اس کی گواہی دیتا ہے ’’پچھلے سال پی آئی اے کی دس ارب کی بولی لگی تو شور پڑگیا حکومت نے سوچا کہ اسے کیسے سپن کریں۔ اب ایک سو پینتیس ارب ہوگیا جو دس ارب ہی ہے۔ انہوں نے کہا ہم آپ کو دیتے ہیں آپ واپس ہمیں دے دینا بس لگے ایسے کہ ایک سو پینتیس ارب میں بیچی ہے۔ تو یہ فارمولہ ڈھونڈا گیا۔ ایسا اس لیے کرنا پڑا کیونکہ پی آئی اے کو کوئی خریدنے کو تیار نہیں تھا‘‘۔ قومی اثاثے کی نیلامی کے لیے کس ریاضی کا ایک نیا کلیہ ایجاد کردیا گیا۔ یہ صلاحیتیں یہ ذہانتیں اور یہ مہارتیں اگر پاکستان میں ادارے بنانے کے لیے استعمال ہوتیں تو آج کم ازکم اس حد تک خانہ خرابی نہ ہوتی۔ پی آئی اے کی نیلامی کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ یہ الگ بات کہ اس قومی ادارے کے ساتھ کئی نسلوں کی یادیں کسی نہ کسی انداز سے وابستہ ہیں۔ ہمارابچپن اور لڑکپن اْردو ڈائجسٹ میں مستقل نوعیت کے اشتہار کو ہر ماہ دیکھتے گزرا جس کا ماٹو ’’لاجواب سروس باکمال لوگ‘‘ ہوتا تھا۔ ہم نے اس کی لاجوابی کا زمانہ تو بس اشتہاروں میں دیکھا جب پہلے ہوائی سفر میں پی آئی اے سے واسطہ پڑا تو اس میں سیاسی بھرتیوں کا آغاز ہو چکا تھا۔ زوال کا جرثومہ ادارے میں گھر کر چکا تھا مگر خرابی بے قابو نہیں ہوئی تھی۔

پاکستان کے چھوٹے شہروں میں پی آئی اے کے اثاثے نئے ائر پورٹس کی صورت میں بن رہے تھے۔ یوں پی آئی اے کا دائرہ پھیل رہا تھا۔ ملک کے دوسرے چھوٹے شہروں کی طرح آزادکشمیر کے پہاڑی علاقوں مظفرآباد اور راولاکوٹ میں چھوٹے ائرپورٹس بن رہے تھے اور فضائی رکشہ نما جہاز جھومتے اور جھولتے ہوئے پہاڑوں سے بچتے بچاتے اْڑ تے چلے جا رہے تھے۔ پی آئی اے کی کارگو سروس بھی عروج پر تھی۔ پہلاہوائی سفر مظفرآباد سے راولپنڈی کا ہوا۔ چار گھنٹے کا سفر آدھ گھنٹے میں طے ہونا ایک بڑی سہولت تھی۔ ڈاک کے سست رفتار نظام میں کارگو سروس بھی ایک نعمت سے کم نہیں تھی۔ انیس سو نوے میں روزنامہ جسارت سے وابستہ ہوا تو پی آئی اے سے قربت بھی بڑھتی چلی گئی۔ جناب محمود احمد مدنی ایڈیٹر اور جناب شاہد ہاشمی منتظم اعلیٰ کے طور پر ذمے داریاں سنبھال چکے تھے۔ دونوں کی سرپرستی میں جسارت نے اپنے کارکنوں اور نئے لوگوں کے ناز نخرے اْٹھانے کی روایت کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ کمال محبت سے آگے بھی بڑھایا۔ شاید یہی شفقت اس شعبے سے مستقل تعلق کے قیام کی بنیاد بنی۔ ایک دن شاہد ہاشمی صاحب نے اسٹاف میٹنگ کے لیے کراچی طلب کیا۔ جسارت کی طرف سے ٹکٹ بھی ملا اور دفتر سے پی آئی اے کارڈ بھی بنوا کر دیا گیا جس سے فضائی سفر کا کرایہ نصف ہوگیا۔ پی آئی اے اخبارات کی ایک اہم بیٹ ہوا کرتی تھی اور طارق ابوالحسن پی آئی اے کور کرتے تھے۔ سو ہر سال ہم اپنا کارڈ دفتر بھیجتے اور طارق ابوالحسن کے ذریعے تجدید ہوکر ہمیں واپس ملتا۔ ہم کسی کو بتاتے کہ ہمیں تو پی آئی اے کے ذریعے آدھے کرایے کی سہولت حاصل ہے تو اکثر لوگ حیرت زدہ ہوجاتے۔ اسی طرح جسارت کی ڈاک جن میں چیکس وغیرہ بھی ہوتے پی آئی اے کارگو سروس کے ذریعے ملتے۔ پھر پی آئی اے کا زوال بڑھتا گیا اور یہ سب باتیں خواب وخیال ہو کر رہ گئیں۔ پی آئی اے کے عالمی سفر میں بھی وہ مزہ نہ رہا جو کبھی مظفرآباد سے راولپنڈی کے اْڑن کھٹولا میں آیا کرتا تھا یا جو اسلام آباد سے کراچی کے پہلے سفر میں محسوس کیا تھا۔

نوے کی دہائی میں زوال کی لہریں تنہا پی آئی اے کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے چکی تھی بلکہ پاکستان اسٹیل مل جیسا بے مثال پروجیکٹ بھی ان لہروں کی زد میں آچکا تھا۔ کراچی کے ایک مطالعاتی دورے میں سندھ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے کراچی شپ یارڈ اور کئی مقامات کے ساتھ ساتھ اسٹیل مل کو دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ وسیع وعریض رقبہ، بہترین عمارتیں، سریا بننے کا دل دہلا دینے والا منظر، ہزاروں افراد اپنے کام میں جْتے ہوئے کیا خوب منظر تھا۔ اس بھی زیادہ ایک مسحور کن احساس تھا کہ پاکستان کے ادارے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان آگے جا رہا ہے موجود ہ مروج اصطلاح کے مطابق اْوپر جا رہا ہے۔ پھر زندگی سے بھرپور اس ڈائینو سار کو کسی نظر لگ گئی اور یہ نحیف ونزار ہو کر مرگیا۔ کوئی ایک کہانی ہو تو بیان کریں؟ کس کس ادارے کا نوحہ پڑھا جائے؟ مرزاغالب کی زبان میں یہی کہا جا سکتا ہے۔

گِریہ چاہے ہے خرابی میرے کاشانے کی
در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا

یہ جو زوال پاکستان کو گھیرے ہوئے ہے ہمہ جہتی ہے۔ کھیل کے میدانوں کی اپنی ہی کہانیاں ہیں۔ کرکٹ اور ہاکی کا زوال تو نمایاں ہے کہ یہ کھیل عوامی دلچسپی سے بھرپور ہوتے تھے۔ کرکٹ کا حال یہ ہے کہ عمران خان کو مائنس کرنے کے شوق میں ہمارا بس نہیں چلتا کہ ہم ورلڈ کپ کا اعزاز بھی انٹرنیشنل کرکٹ کلب کو واپس کرکے یہ کہانی ہی تاریخ سے حذف کر دیتے۔ اسکواش ایک مخصوص طبقے کا کھیل تھا مگر اس میں بھی پاکستان کے نام کا ڈنکا بجتا تھا۔ ایک کے بعد دوسرا عالمی چمپئن پاکستان سے اْبھرتا۔ جہانگیر خان ایسے ہی قومی ہیرو ہیں جو ایک مدت تک اسکواش کی دنیا میں پاکستان کی پہچان رہے۔ ان کا نیا ویڈیو کلپ ان دنوں محوگردش ہے جس میں وہ کہتے ہیں اسکواش کی سربراہی ونگ کمانڈرز اور ایسے لوگوں کو سونپی گئی جنہوں نے کبھی ریکٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔ تو اس حکمت عملی کے ساتھ اسکواش نے زوال پزپر ہی ہونا تھا۔ کتنی اذیت ناک کہانیاں پاکستان میں اداروں کے زوال کے ساتھ وابستہ ہو چکی ہیں۔ اس زوال کی وجہ سے یہ بات نوشتۂ دیوار ہے کہ پاکستان میں گورننس کا اٹھتر سالہ ماڈل ناکام ہوچکا ہے۔ اس ماڈل کا خلاصہ امریکی مصنف ڈینئیل مارکی کی کتاب ’’نو ایگزٹ فرام پاکستان‘‘ میں یوں بیان کیا جا چکا ہے کہ پاکستان کو رینگنے کی آزادی تو ہوگی مگر پر لگاکر اْڑنے کی اجازت نہیں ہوگی‘‘۔

حکمرانی کا یہ ماڈل قیامت تک باقی رہنے والے پاکستان کے بڑے حصے مشرقی پاکستان کو کھا چکا ہے۔ یہ ماڈل پاکستان کے اداروں کو ہڑپ کر چکا ہے۔ یہ ماڈل اگلی چار پانچ نسلوں کو عالمی مالیاتی اداروں کا مقروض بنا چکا ہے۔ وہ جو بے چارے ابھی اس دنیا میں آئے ہی نہیں وہ بھی مقروض پیدا ہوں گے۔ اس ناکام ماڈل کی تصویر یہ ہے کہ پاکستان عالمی اسٹیبشلمنٹ کی خصوصی نظر عنایت کا مستقل نشانہ ہے۔ عالمی مہربان خطے کے لیے اپنے ایجنڈے کو مقامی اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے آگے بڑھاتے ہیں۔ اسی لیے انہیں پاکستان میں عوامی اور حقیقی جمہوریت قبول نہیں رہی۔ وہ اس اکٹھ میں نشان زدہ سیاست دانوں کی پیوند کاری کرتے ہیں۔ تیسرے اور کمزور شراکت دار کے طور پر۔ ماضی میں یہ کام ان سیاست دانوں سے لیا جاتا تھا جنہیں انگریز نے انعام کے طور جائدادیں دے کر جاگیرد ار بنادیا تھا۔ ظاہر ہے ان کی نسلیں اس سوچ کی احسان مند اور اسیر تھیں۔ جاگیرداری کا سورج غروب ہونے کے بعد یہ کام سرمایہ دار سیاست دانوں سے لیا جانے لگا جن کی دولت مغربی ملکوں میں آفشور کمپنیوں کے ذریعے بینک اکائونٹس اور کارباری عمارتوں کی صورت میں موجود ہے۔ مغربی ملکوں میں پوشیدہ دولت کے انبار ان کی کمزور ی بن چکی ہے اور وہ سسٹم میں سیاسی پیوند کاری کا کام انجام دینے پر مجبور ہیں۔ تنوع قدرت کا اصول ہے۔ صرف ایک ادارہ کھپے باقی کوئی نہ کھپے کی سوچ صحت مندانہ نہیں۔ ہر ادارہ کھپے گا تو ملک کھپے گا بھی اور اس کی تصویر بھی مکمل ہوگی۔ وگرنہ تو جلیل عالی والی بات ہوگئی ناں پھر۔

اپنے دیے کو چاند بنانے کے واسطے
بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑا ہمیں

عارف بہار سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی ا ئی اے کی پی ا ئی اے کا پاکستان میں پاکستان کے کہ پاکستان کے ذریعے کے ساتھ چکا ہے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف