بدین ،کڑیوگھنورکے رہائشیوں کا مبینہ اغوا کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260101-05-6
بدین(نمائندہ جسارت)کڑیو گھنور کے رہائشی ذوالفقار راہموں کے مبینہ اغوا کے خلاف رشتے داروں کا دیگر شہریوں کے ہمراہ بدین پریس کلب کے سامنے احتجاج، پولیس پر ذوالفقار راہموں کو مبینہ طور پر اغوا اور غائب کرنے کا الزام ۔ کڑیوگھنور کے رہائشی ذوالفقار راہموں کہ مبینہ طور پر اغوا اور لاپتا ہونے کے خلاف ذوالفقار راہموں کے رشتے داروں نے دیگر مکینوں کے ہمراہ بدین پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار راہموں کو 16 دسمبر کو گولاڑچی روڈ پر وین میں سوار پولیس اور سول کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر جبری اغوا کیا گیا ، جانے کے واقعے کے خلاف ان کے ورثا اور علاقہ مکینوں نے بدین پریس کلب کئے گئے احتجاج کی قیادت سکندر راہموں، اکبر راہموں، سومار راہموں اور اسحاق راہموں نے کی۔ اس موقع پر مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ذوالفقار راہموں کی فوری بازیابی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار راہموں کو بغیر کسی وارنٹ اور مقدمے کے جبری طور پر لاپتا کیا گیا ہے، جس کے باعث ان کے گھر میں خوف و ہراس اور شدید بے چینی کی فضا قائم ہے۔ اس موقع پر مظاہرین نے بتایا کہ 16 دسمبر کو ذوالفقار راہموں کڑیوگھنور سے گولاڑچی روڈ کے راستے کڑیوگھنور جا رہے تھے کہ اچانک ایک گاڑی آکر رکی جس میں سے پولیس اور سول کپڑوں میں ملبوس اہلکار نکلے اور انہیں زبردستی وین میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ کئی دن گزر جانے کے باوجود نہ تو ذوالفقار راہموں کا کوئی سراغ ملا ہے اور نہ ہی پولیس کی جانب سے کوئی تسلی بخش جواب دیا جا رہا ہے۔ ورثا نے کہا کہ اگر ذوالفقار راہموں پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، مگر انہیں غیر قانونی طور پر جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مظاہرین نے سندھ حکومت، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی بدین سے مطالبہ کیا کہ ذوالفقار راہموں کو فوری طور پر بازیاب کروا کر ورثا کے حوالے کیا جائے اور اس واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ احتجاج کرنے والوں نے خبردار کیا کہ اگر جلد ذوالفقار راہموں کو رہا نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری پولیس انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ذوالفقار راہموں کو مظاہرین نے کے خلاف
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔