برمودا تکون کے نیچے کیا ہے؟ سائنس دانوں کی نئی دریافت نے دنیا کو حیران کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برمودا تکون ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں دہائیوں سے پراسرار واقعات، جہازوں اور طیاروں کی گمشدگیوں کی کہانیاں گردش کرتی رہی ہیں۔
اس خطے کو عموماً مافوق الفطرت قوتوں سے جوڑا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ سائنسی تحقیق نے اس پراسرار علاقے کو ایک نئے زاویے سے دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ سائنس دانوں نے برمودا جزیرے کے نیچے زمین کی گہرائی میں ایسا غیر معمولی ڈھانچہ دریافت کیا ہے، جس کی مثال دنیا کے کسی اور حصے میں نہیں ملتی۔
برمودا تکون شمالی بحرِ اوقیانوس میں فلوریڈا، برمودا اور پورٹو ریکو کے درمیان واقع ہے، جہاں ماضی میں پیش آنے والے غیر معمولی حادثات نے اسے ایک معما بنا دیا۔ اب اس علاقے پر کی جانے والی جدید سائنسی تحقیق نے یہ واضح کر دیا ہے کہ برمودا کی پراسراریت صرف کہانیوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے نیچے زمین کی ساخت بھی حیران کن حد تک مختلف ہے۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے برمودا جزیرے کے نیچے تقریباً 19.
کارنیگی انسٹیٹیوشن فار سائنس سے تعلق رکھنے والے سیسمولوجسٹ ولیم فریزر کے مطابق یہ دریافت ارضیات کے روایتی تصورات کو چیلنج کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برمودا کے نیچے موجود یہ اضافی پرت کرسٹ اور مینٹل کے درمیان واقع ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ یہاں ٹیکٹونک سرگرمی یا زمینی ارتقا کا عمل دنیا کے دیگر حصوں سے مختلف رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منفرد ساخت نے برمودا تکون میں مقناطیسی اور قدرتی عوامل کو بھی متاثر کیا ہو سکتا ہے، جو ماضی میں پیش آنے والے غیر معمولی واقعات کی ایک سائنسی وضاحت بن سکتے ہیں۔ اگرچہ سائنس دان اب بھی کسی مافوق الفطرت عنصر کی تصدیق نہیں کرتے، تاہم وہ اس بات پر متفق ہیں کہ برمودا تکون کا یہ علاقہ ارضیاتی اعتبار سے انتہائی منفرد ہے۔
اس نئی تحقیق نے برمودا تکون سے جڑی کہانیوں کو ایک نیا سائنسی پس منظر فراہم کر دیا ہے اور آنے والے برسوں میں مزید تحقیق کے دروازے کھول دیے ہیں، جو شاید اس خطے کے دیرینہ رازوں سے پردہ اٹھا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔
ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔