ہائی بلڈ پریشر خاموشی سے گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، نئی تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
ہائی بلڈ پریشر گردوں کے لیے توقع سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بلند فشارِ خون بغیر کسی واضح علامات کے گردوں کے اہم خلیات کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتا ہے۔
میڈیکل یونیورسٹی آف ویانا کے ماہرین کی جانب سے کی گئی اس تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ پریشر بذاتِ خود گردوں کے نہایت ضروری خلیات کو متاثر کر سکتا ہے، حتیٰ کہ اس مرحلے پر بھی جب مریض کو کسی قسم کی علامات یا لیبارٹری ٹیسٹ میں خرابی ظاہر نہیں ہوتی۔
مزید پڑھیں: ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ وجہ سامنے آگئی
یہ تحقیق طبی جریدے Hypertension میں شائع ہوئی، جس کی قیادت کرسٹوفر پاشن، رائنر اوبر باؤر اور ہائنز ریگلے نے کی۔ تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ ہائی بلڈ پریشر گردوں کے افعال اور ان کے بنیادی یونٹس، جنہیں نیفرونز کہا جاتا ہے، پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
گردے جسم سے فاضل مادّوں اور اضافی پانی کو خارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر گردے میں ننھے ننھے فلٹرز ہوتے ہیں جنہیں گلومیرولی کہا جاتا ہے، اور ان میں موجود خصوصی خلیات پوڈوسائٹس کہلاتے ہیں۔ اگر یہ خلیات متاثر ہوں یا ان کی تعداد کم ہو جائے تو گردے درست طریقے سے کام نہیں کر پاتے۔
تحقیق کے لیے ماہرین نے 99 مریضوں کے گردوں کے صحت مند ٹشوز کا جائزہ لیا۔ یہ مریض 2013 سے 2018 کے دوران گردے کے ٹیومر کی سرجری سے گزر چکے تھے۔ تحقیق میں صرف گردوں کے صحت مند حصوں کو شامل کیا گیا۔ بعض مریض ہائی بلڈ پریشر یا ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا تھے جبکہ بعض مکمل طور پر صحت مند تھے۔
جدید امیجنگ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے پوڈوسائٹس کی تعداد، سائز اور گلومیرولی کی ساخت کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں پوڈوسائٹس کی تعداد کم تھی جبکہ باقی خلیات کا سائز غیر معمولی طور پر بڑا ہو چکا تھا۔
مزید پڑھیں: ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے سے ’ رحم‘ کے فائبرائیڈز کو روکا جاسکتا ہے
اہم بات یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں ان افراد میں بھی دیکھی گئیں جو ذیابیطس کا شکار نہیں تھے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف ہائی بلڈ پریشر ہی گردوں کو ابتدائی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ساختی تبدیلیاں گردوں کی بیماری کی ابتدائی علامات میں شمار ہوتی ہیں۔ چونکہ یہ نقصان علامات ظاہر ہونے سے پہلے شروع ہو جاتا ہے، اس لیے یہ تحقیق مستقبل میں گردوں کے امراض کی بروقت تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گردوں کو نقصان میڈیکل یونیورسٹی آف ویانا ہائی بلڈ پریشر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گردوں کو نقصان ہائی بلڈ پریشر ہائی بلڈ پریشر گردوں کے سکتا ہے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔