Islam Times:
2026-06-03@00:03:53 GMT

2025ء کے دوران دنیا بھر میں 128 صحافی قتل ہوئے

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

2025ء کے دوران دنیا بھر میں 128 صحافی قتل ہوئے

آئی ایف جے کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت 533 صحافی قید ہیں اور یہ تعداد پچھلے پانچ برس کے دوران دو گنا سے بھی زیادہ ہوئی ہے، چین اس بار بھی ان ممالک میں سر فہرست ہیں جہاں سب سے زیادہ صحافی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور یہ تعداد 143 ہے۔ اسلام ٹائمز۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے کہا ہے کہ 2025ء کے دوران دنیا بھر میں 128 صحافی ہلاک ہوئے جن میں سے نصف سے زیادہ مشرق وسطیٰ میں تھے۔ آئی ایف جے کے جنرل سیکرٹری انتھونی بیلانگر نے کہا کہ یہ 2024ء سے اب تک کی سنگین ترین تعداد ہے، یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ یہ ہمارے ساتھیوں کے لیے عالمی سطح پر ریڈ الرٹ ہے، علاقوں کی صورت حال انتہائی خطرناک اور قابل تشویش کیونکہ غزہ میں حماس اور اسرائیل کی جنگ میں ایک سال کے دوران 56 پیشہ ور صحافی جان سے گئے۔ سیکریٹری انتھونی بیلانگر کے مطابق ہم نے پہلے ایسا نہیں دیکھا کہ اتنے کم وقت اور چھوٹے علاقے میں اتنی اموات ہوئی ہوں، یمن، یوکرین، سوڈان، پیرو انڈیا اور دوسرے ممالک میں بھی صحافیوں کو قتل کرنے کے واقعات سامنے آئے۔ آئی ایف جے کے جنرل سیکرٹری نے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے ان لوگوں کے لیے ایک قسم کا "استثنیٰ" قرار دیا جو ان کے پچھے ہیں، انصاف نہ ہونے کی صورت میں اس سے صحافیوں کے قاتلوں کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔

آئی ایف جے کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت 533 صحافی قید ہیں اور یہ تعداد پچھلے پانچ برس کے دوران دو گنا سے بھی زیادہ ہوئی ہے، چین اس بار بھی ان ممالک میں سر فہرست ہیں جہاں سب سے زیادہ صحافی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور یہ تعداد 143 ہے۔ اسی طرح ہانگ کانگ میں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں اور اس کو اختلاف رائے کو دبانے کے لیے قومی سلامتی کے قوانین لاگو کرنے پر مغربی ممالک نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ آئی ایف جے کی جانب سے مارے جانے والے صحافیوں کی گنتی رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ ان کے گنتی کے طریقہ کار میں فرق ہے، اس برس جان سے جانے والے صحافیوں میں نو ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کی موت مختلف حادثات کی وجہ سے واقع ہوئی۔ رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ اس برس اپنے کام کی انجام دہی کے دوران 67 صحافی مارے گئے جبکہ یونیسکو کی جانب سے یہ تعداد 93 بتائی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ہیں اور یہ تعداد دنیا بھر میں ا ئی ایف جے کی جانب سے کے دوران

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا