وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا پشاور ناردن بائی پاس منصوبے کی تکمیل کیلئے بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وفاقی کی جانب سے ناکافی فنڈنگ کے باعث پشاور ناردن بائی پاس 2010 سے ابتک مکمل نہ ہو سکا، وفاقی سطح پر تاخیر کے باعث خیبر پختونخوا کے ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پشاور ناردن بائی پاس منصوبے سے متعلق اجلاس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے زیر تعمیر ناردن بائی پاس منصوبے کی تکمیل کے لیے 3.
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ عوامی مفاد کا منصوبہ ہے، صوبائی حکومت اس کی جلد تکمیل کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ منصوبے سے سفری سہولیات کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا، اجلاس کو منصوبے پر اب تک کی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے پر اب تک 23.5 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں اور مجموعی فنانشل پراگریس 85.6 فیصد ہے، پیکج ون پر فزیکل پراگریس 100 فیصد ،اور پیکج ٹو پر 64 فیصد پراگریس ہو چکی ہے۔ پیکج تھری پر 86.6 فیصد اور پیکج تھری اے پر 69 پر فزیکل پراگریس ہو چکی ہے۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم، ممبر نیشنل ہائی ویز، کمشنر پشاور اور متعلقہ صوبائی محکموں کے حکام اجلاس میں شریک ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پشاور ناردن بائی پاس خیبر پختونخوا کی جانب سے کے باعث
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔