سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وفاقی کی جانب سے ناکافی فنڈنگ کے باعث پشاور ناردن بائی پاس 2010 سے ابتک مکمل نہ ہو سکا، وفاقی سطح پر تاخیر کے باعث خیبر پختونخوا کے ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پشاور ناردن بائی پاس منصوبے سے متعلق اجلاس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے زیر تعمیر ناردن بائی پاس منصوبے کی تکمیل کے لیے 3.

9 ارب روپے بطور بریج فنانسنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا جبکہ ناردن بائی پاس پر دو انڈر پاسز اور ایک پل کی تعمیر کے لیے درکار ایک ارب روپے صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں این ایچ اے حکام کی جانب سے منصوبہ جون 2026 تک مکمل کرنے کی یقین دہانی کروا دی گئی۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وفاقی کی جانب سے ناکافی فنڈنگ کے باعث پشاور ناردن بائی پاس 2010 سے ابتک مکمل نہ ہو سکا، وفاقی سطح پر تاخیر کے باعث خیبر پختونخوا کے ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ عوامی مفاد کا منصوبہ ہے، صوبائی حکومت اس کی جلد تکمیل کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ منصوبے سے سفری سہولیات کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا، اجلاس کو منصوبے پر اب تک کی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے پر اب تک 23.5 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں اور مجموعی فنانشل پراگریس 85.6 فیصد ہے، پیکج ون پر فزیکل پراگریس 100 فیصد ،اور پیکج ٹو پر 64 فیصد پراگریس ہو چکی ہے۔ پیکج تھری پر 86.6 فیصد اور پیکج تھری اے پر 69 پر فزیکل پراگریس ہو چکی ہے۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم، ممبر نیشنل ہائی ویز، کمشنر پشاور اور متعلقہ صوبائی محکموں کے حکام اجلاس میں شریک ہوئے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پشاور ناردن بائی پاس خیبر پختونخوا کی جانب سے کے باعث

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار