فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے ٹیکس وصولی کے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ایف بی آر موجودہ مالی سال مسلسل پانچویں ماہ ٹیکس ہدف پورا کرنے میں ناکام ہوگیا، مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ٹیکس ریونیو میں 335 ارب روپے سے زائد کمی کا سامنا ہے۔ذرائع ایف بی آر کے مطابق جولائی تا دسمبر 6 ہزار 489 ارب روپے ہدف کے مقابلے وصولی 6 ہزار 154 ارب رہی، جولائی 2025 کے سوا کسی مہینے ٹیکس ہدف پورا نہ ہوسکا، ماہ دسمبر میں بھی ٹیکس وصولی ہدف سے تقریبا 25 ارب روپے کم رہی۔دسمبر میں 1446 ارب ہدف کے مقابلےمیں 1421 ارب روپے ٹیکس وصولی ہوئی، دسمبر میں سب سے زیادہ 828 ارب روپے وصولی انکم ٹیکس سے ہوئی، سیلز ٹیکس وصولی 434 ارب روپے رہی، کسٹمز ڈیوٹی سے 123 ارب روپے حاصل ہوئے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے 72 ارب روپے سے زائد حاصل ہوئے۔حکام ایف بی آر کے مطابق دسمبر میں ٹیکس ریفنڈز کی مد میں 38 ارب روپے ادا کیے گئے، سالانہ ٹیکس ہدف 14 ہزار 130 ارب سے کم کرکے 13 ہزار 979 ارب روپے کر دیا گیا، کارپوریٹ سیکٹر نے دسمبر کے آخری دن 305 ارب کی بڑی ادائیگیاں کیں۔ذرائع کے مطابق سالانہ ٹیکس ہدف پر نظرثانی آئی ایم ایف کی مشاورت سے کی گئی، آئی ایم ایف اگلے ہفتے ایف بی آر کی ٹیکس کارکردگی کا جائزہ لے گا۔آمدن ہدف سے کم رہنے کے باعث اگلی سہ ماہی میں نئے ٹیکس اقدامات کا امکان برقرار ہے، شارٹ فال پورا کرنے کیلئے متبادل کے طور پر حکومتی اخراجات میں کمی کرنے کی تجویز ہے، حکومتی ٹیکس آمدن میں کمی سے بجٹ خسارے سمیت دیگر اہداف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

   
 
 
  

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ٹیکس وصولی ایف بی آر ٹیکس ہدف ارب روپے

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم