Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:51:16 GMT

امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات: دھمکی، انتباہ اور عالمی کشمکش

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات: دھمکی، انتباہ اور عالمی کشمکش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں ایران، حماس اور یوکرین کے حوالے سے اپنے سخت موقف کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران جوہری پروگرام جاری رکھے گا تو اسے شدید نتائج بھگتنا ہوں گے، حماس کو غیر مسلح نہ ہونے کی صورت میں قیمت چکانی ہوگی، جبکہ غزہ سے اسرائیلی انخلا ایک الگ معاملہ ہے جس پر بعد میں بات ہوگی۔ صدر ٹرمپ نے یوکرینی حملے کے بعد پیوتن کی رہائش گاہ پر ہونے والے حملے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔
ان بیانات نے عالمی سطح پر ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا ہم واقعی اکیسویں صدی میں داخل ہو چکے ہیں یا اب بھی طاقت، دھمکی اور خوف کی پرانی سیاست کے دائرے میں الجھے ہوئے ہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں سخت الفاظ اور حماس کو غیر مسلح ہونے کی وارننگ کے ساتھ ساتھ غزہ کے حوالے سے علیحدہ موقف، اس تصویر کو واضح کرتے ہیں جس میں دوغلا پن، طاقت کا غرور اور تضاد نمایاں ہے۔ ایران پر الزام ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے، مگر عالمی نظام کے دہرے معیار — اسرائیل کے غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں پر خاموشی — نے اس پر دفاعی سوچ اپنانے پر مجبور کیا ہے۔
ٹرمپ کی دھمکی محض ایک بیان نہیں بلکہ اس سوچ کی عکاسی ہے جس میں مسئلے کا حل طاقت کے استعمال میں تلاش کیا جاتا ہے۔ مگر ایران کی تاریخ، قومی شناخت اور عوامی مزاج کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ جارحانہ زبان اور دباؤ اکثر الٹا اثر ڈال سکتے ہیں۔ ماضی میں سخت پابندیوں نے ایران کو جھکانے کے بجائے خود کفالت، علاقائی اثر و رسوخ اور مزاحمتی پالیسی کی طرف دھکیلا ہے، اور خدشہ ہے کہ یہ دھمکیاں بھی کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔
اسی طرح غزہ اور حماس کا معاملہ محض سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک انسانی المیہ بھی ہے۔ طویل محاصرے، معاشی مشکلات اور خوف کے ماحول میں غیر مسلح ہونے کا مطالبہ یکطرفہ طاقت کے توازن کو نظر انداز کرتا ہے۔ غزہ سے اسرائیلی انخلا کو الگ مسئلہ قرار دینا بھی بنیادی مسائل سے نظریں ہٹانے کے مترادف ہے۔ فلسطین کے مسئلے کا حل صرف سیکیورٹی یا امداد کے زمرے میں نہیں بلکہ سیاسی، انسانی اور باوقار حل میں چھپا ہے۔
امریکا کا کردار اس منظرنامے میں سب سے زیادہ متنازع اور فیصلہ کن ہے۔ واشنگٹن عالمی امن اور جمہوریت کا علمبردار بننے کی کوشش کرتا ہے، مگر اکثر پالیسیاں مخصوص اتحادیوں کے مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔ اسرائیل کو غیر مشروط حمایت اور طاقت کے بل پر عالمی تعلقات چلانا، مشرق وسطیٰ میں امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے اور دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ طاقت انصاف کے اوپر ہے۔
یوکرین کی جنگ بھی اس عالمی بحران کا ایک پہلو ہے، جہاں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کی بساط بچھا رہی ہیں اور سب سے زیادہ نقصان عام شہری بھگت رہے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سرد جنگ کے بعد جو عالمی نظم کی امیدیں تھیں، وہ شدید دباؤ میں ہیں۔
نتیجہ: عالمی سیاست میں سخت بیانات اور دھمکیاں مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ امریکی صدر کے بیانات بھی داخلی سیاسی دباؤ اور انتخابی ماحول کے اثرات کے بغیر نہیں۔ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ادارے، جنہیں طاقتور ممالک اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتے ہیں، اس میں ناکافی نظر آتے ہیں۔
ایران، فلسطین اور یوکرین کے معاملات یہ واضح کرتے ہیں کہ عالمی نظام اصلاحات کا متقاضی ہے۔ امن کی راہ مذاکرات، باہمی احترام اور انصاف سے ہو کر گزرتی ہے، نہ کہ دھمکیوں اور طاقت کے استعمال سے۔ تاریخ بارہا یہ سبق دے چکی ہے کہ طاقت کے نشے میں کیے گئے فیصلے وقتی برتری دے سکتے ہیں، مگر پائیدار امن نہیں۔
اگر عالمی قیادت نے یہ سبق نہیں سیکھا تو آنے والے دنوں میں عالمی بحران صرف ایک تشبیہ تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ حقیقی خطرہ بن کر سامنے آ سکتا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: طاقت کے

پڑھیں:

بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی

 سٹی 42:وزیر اعلیٰ کے پی کے نے کہا بانی پی ٹی آئی نے جیل سے وزیر اعلی کی تبدیلی کا فیصلہ کیا تھا،بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی۔جب تک اڈیالہ جیل سے پیغام نہیں آتا میں ہی وزیر اعلی رہوں گا،کے پی کے کی حکومت کو بانی پی ٹی آئی کے علاوہ کوئی ختم نہیں کرسکتا 

وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے  فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا بانی پی ٹی آئی نے جیل سے وزیر اعلی کی تبدیلی کا فیصلہ کیا تھا،بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی۔جب تک اڈیالہ جیل سے پیغام نہیں آتا میں ہی وزیر اعلی رہوں گا،کے پی کے کی حکومت کو بانی پی ٹی آئی کے علاوہ کوئی ختم نہیں کرسکتا ۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 انہوں نے کہا ہمارے تمام ایم پی ایز تحریک انصاف کے جھنڈے تلے متحد ہیں،آنے والے بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا ۔ستانوے ہزار ارب روپے تک پاکستان کے اندرونی اور بیرونی قرضے پہنچ چکے ہیں ۔ٹیکس وصولی کے حدف سے کم ٹیکس وصول ہوا ہے ۔پہلے 5 کو بجٹ پیش کرنا تھا اب 10 کو پیش کریں گے ۔کچھ لے دے کر یہ لوگ بجٹ کو پاس کر دے گے۔بجٹ کا سارا بوجھ عوام پر پڑنے والا ہے ۔تمام صحافیوں،  سوشل میڈیا کے نمائندوں سے گزارش ہے آپ نے اس مہینے صرف بجٹ پر بات کرنی ہے 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

آپ نے دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان کے قرضے ستانوے ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں ۔ہمارا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جارہا ہے ۔ہمارا کاروباری طبقہ انڈسٹری بند کر کے اپنی انویسٹمنٹ باہر لے کر جاریا ہے ۔ہمارا کسان ایگریکلچر میں تباہ حال ہیں ۔مہنگائی دن بدن بڑھتی جارہی ہے پیٹرول کی قیمت بڑھتی جارہی ہے۔ان کے پاس نہ کوئی فارن پالیسی ہے نہ کوئی اکنامک نہ کوئی انٹیریر پالیسی ہے ۔کے پی کے حکومت نے اپنی کابینہ سے متوازن بجٹ پاس کروالیا ہے۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

ہم نے عوام دوست بجٹ دینا ہے جو عوام کا حق ہے ۔بانی پی ٹی آئی کے ویژن کے مطابق ہمارا فوکس صحت،  تعلیم،  یوتھ ،  زراعت اور فارسٹ پر ہے ۔اس بجٹ میں مینارٹی کے لیے بہت کچھ لے کر آرہے ہیں ۔وفاقی بجٹ کا اثر کے پی کے سمیت پورے پاکستان پر پڑے گا۔بانی پی ٹی آئی کو غیر آئینی طریقے سے ائسولیٹ کیا ہوا ہے ۔ہمارا یہاں آنے کا مقصد ایک ہی ہے کہ بانی کو الشفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ۔ان کی فیملی اور ذاتی ڈاکٹر کی موجودگی میں ان کا علاج کیا جائے ۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

بانی کی فیملی کو ملاقات نہیں کرنے دیں رہے اس کا مطلب یہ کچھ کرنا چارہے ہے ۔اگر یہ کہہ رہے ہیں کہ بانی کا بہترین علاج کررہے ہیں تو فیملی کو کیوں ملنے نہیں دے رہے ۔ہم پچھلی بار ملنے آئے تو انہوں نے کشمیر ہائی وے پر روکا اور 11 گھنٹے تک عوام کو اذیت میں ڈالا ۔فیملی تو غیر سیاسی ہے مل کر بتا دیں گی کہ بانی کی طبیعت کیسی ہے، 

وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی  نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے اسے ٹوک دیا۔علیمہ خان  نے سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہہ  کرتے ہوئے کہا آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں ۔ ان سے کہیں پہلے میری ملاقات کرائیں ۔ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ ڈسکس کرو 

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار