نئے سال کا شاندار آغاز؛ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس کا نیا ریکارڈ قائم
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
کراچی:
نئے سال کے موقع پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا شاندار آغاز ہوا ہے، جہاں انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
کاروباری ہفتے کے چوتھے روز اور 2026ء کے پہلے ہی دن بازار حصص میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں سرمایہ کاروں کے بھرپور اعتماد کے نتیجے میں مارکیٹ میں شیئرز کی خرید و فروخت میں نمایاں تیزی ریکارڈ ہو رہی ہے۔
آج جمعرات کے روز پی ایس ایکس میں کاروبار کے آغاز ہی سے خریداری کا رجحان غالب رہا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 1954 پوائنٹس کے بڑے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 76 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کر گیا۔
کاروباری دورانیے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 1954 پوائنٹس کے بڑے اضافے کے بعد ایک لاکھ 76 ہزار 8 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا، جس سے سرمایہ کاروں کے مثبت رجحان کا اظہار ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان برقرار رہا تھا اور کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 75 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔