کراچی:

نئے سال کے موقع پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا شاندار آغاز ہوا ہے، جہاں انڈیکس  نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

کاروباری ہفتے کے چوتھے  روز اور 2026ء کے پہلے  ہی دن بازار حصص میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں سرمایہ کاروں کے بھرپور اعتماد کے نتیجے میں مارکیٹ میں شیئرز کی خرید و فروخت  میں نمایاں تیزی ریکارڈ ہو رہی ہے۔

آج جمعرات کے روز پی ایس ایکس میں کاروبار کے آغاز ہی سے خریداری کا رجحان غالب رہا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 1954 پوائنٹس کے بڑے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 76 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کر گیا۔

کاروباری دورانیے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 1954 پوائنٹس کے بڑے اضافے کے بعد ایک لاکھ 76 ہزار 8 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا، جس  سے سرمایہ کاروں کے مثبت رجحان کا اظہار ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان برقرار رہا تھا اور کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 75 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے