سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کی نئے سال پر عوام سے اپیل
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے نئے سال کے موقع پر عوام کو شوگر کی بڑھتی ہوئی شرح سے خبردار کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس یعنی شوگر کی شرح اب 33 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو ملک کے لیے ایک سنجیدہ صحت کا مسئلہ ہے۔
وسیم اکرم نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ حکیموں کے پاس انحصار چھوڑ دیں، اپنا شوگر لیول باقاعدگی سے چیک کریں اور کھانے پینے کے انتخاب میں محتاط رہیں۔ انہوں نے کہا کہ جان ہے تو جہاں ہے اس لیے شوگر سے بچیں اور اپنی صحت کو ترجیح دیں۔
Happy new year from the Akram's.
— Wasim Akram (@wasimakramlive) January 1, 2026
انہوں نے عوامی سطح پر صحت مند طرز زندگی اپنانے، غذائی عادات بہتر کرنے اور باقاعدگی سے میڈیکل چیک اپ کرانے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ ذیابیطس کے خطرات سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ وسیم اکرم گزشتہ 25 سال سے شوگر کا شکار ہیں اور وہ وقتاً فوقتاً عوام کے لیے لائف اسٹائل کے حوالے سے ویڈیو شیئر کرتے رہتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان میں شوگر شوگر نیو ایئر 2026 وسیم اکرم وسیم اکرم نیو ایئر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان میں شوگر شوگر نیو ایئر 2026 وسیم اکرم وسیم اکرم نیو ایئر وسیم اکرم
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔