آر ایس ایس کے سربراہ نے آئین، قوانین اور شہری نظم و ضبط کی پابندی، مادری زبان کے استعمال، دیسی مصنوعات کے فروغ اور خود انحصاری کی بھی تلقین کی۔ اسلام ٹائمز۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ لوگوں کو ذات، دولت، زبان یا علاقے کی بنیاد پر پرکھنا درست نہیں، کیونکہ یہ ملک سب کا ہے۔ وہ چھتیس گڑھ کے رائے پور ضلع کے سونپیری گاؤں میں منعقدہ ایک ہندو کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ موہن بھاگوت نے کہا کہ سماجی ہم آہنگی کی پہلی سیڑھی دل سے تفریق اور امتیاز کے جذبات کو ختم کرنا ہے اور ہر فرد کو اپنا سمجھنا ہی حقیقی قومی یکجہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی خدمت کا مقصد اتحاد ہے تصادم نہیں۔ خاندانی نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خاندانوں کو چاہیئے کہ ہفتے میں کم از کم ایک دن اکٹھے گزاریں، اپنی مذہبی روایت کے مطابق عبادت کریں، گھر کا کھانا ساتھ کھائیں اور مثبت اور بامعنی گفتگو کریں۔

انہوں نے کہا کہ تنہائی اکثر لوگوں کو بری عادتوں اور نشے کی طرف دھکیل دیتی ہے، جسے خاندانی رابطہ اور مکالمہ روک سکتا ہے۔ ماحولیات کے تحفظ پر گفتگو کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ ماحولیاتی بگاڑ اور عالمی حدت ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پانی کی بچت، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، پلاسٹک کے کم استعمال اور شجر کاری کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی اور فطرت کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ ہم سفر بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

قبل ازیں موہن بھاگوت نے ایمس رائے پور میں نوجوانوں کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اندھا دھند ترقی پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اگر ماحولیاتی توازن کو نظرانداز کیا گیا تو آنے والی نسلوں کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ انہوں نے آئین، قوانین اور شہری نظم و ضبط کی پابندی، مادری زبان کے استعمال، دیسی مصنوعات کے فروغ اور خود انحصاری کی بھی تلقین کی۔ یہ دورہ آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات کا حصہ ہے، جس کا مقصد نوجوانوں اور معاشرے کے مختلف طبقات سے براہِ راست مکالمہ قائم کرنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: موہن بھاگوت نے نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ