او جی ڈی سی ایل نے کوہاٹ میں اہم ہائیڈروکاربن ذخائر دریافت کرلیے
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ یعنی او جی ڈی سی ایل نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں اپنے باراگزی ایکس 01 نامی کنویں میں تیل اور گیس دریافت کی ہے۔
او جی ڈی سی ایل نے اس پیش رفت سے متعلق پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نوٹس کے ذریعے آگاہ کیا کہ نشپا ایکسپلوریشن لائسنس کا 65 فیصد آپریٹر ہونے کے ناتے او جی ڈی سی ایل نے یہ دریافت اپنے مشترکہ منصوبے کے پارٹنرز پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور گورنمنٹ ہولڈنگز لمیٹڈ کے ساتھ کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: او جی ڈی سی ایل نے غیر روایتی گیس کے منصوبوں میں تیزی لانے کا فیصلہ کر لیا
نوٹس میں بتایا گیا کہ ڈاٹا فارمیشن (جراسک دور) میں کیسسڈ ہول ڈرل اسٹیم ٹیسٹ کے دوران، کنویں سے یومیہ 4,100 بیرل تیل اور 10.
OGDCL discovers oil and gas at the Baragzai X-01 (Slant) well in the Nashpa Block, Khyber Pakhtunkhwa.
Testing of the Datta Formation delivered 4,100 BOPD and 10.5 MMSCFD of gas, indicating commercially meaningful flows and a positive addition to the company’s reserve base, with… pic.twitter.com/ofrITi6Iqd
— Adeel Afzal (@AdeelAfzal06) January 1, 2026
’باراگزی ایکس 01 کنویں کو 30 دسمبر 2024 کو تحقیقاتی مقصد کے لیے کھودا گیا تھا اور یہ کنگریالی فارمیشن تک 5,170 میٹر کی کل گہرائی تک پہنچا۔‘
او جی ڈی سی ایل کے مطابق، ڈاٹا فارمیشن میں تقریباً 187 میٹر کی چوڑائی تک تیل اور گیس کے آثار پائے گئے، ڈرلنگ کے دوران ہائیڈروکاربن کے اچھے آثار، اوپن ہول وائر لائن لاگز کی تشریح اور امیج لاگز پر فریکچر کے اشارے کی بنیاد پر کیسسڈ ہول ڈرل اسٹیم ٹیسٹ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش کا نیا باب، 80 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع
اس سے قبل کنگریالی فارمیشن (ٹرائیاسک دور) میں کامیاب ٹیسٹنگ بھی دریافت کے طور پر ثابت ہوئی تھی۔ او جی ڈی سی ایل کے مطابق یہ دریافت ملکی وسائل سے توانائی کی طلب و رسد کے فرق کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ او جی ڈی سی ایل، اس کے مشترکہ منصوبے کے پارٹنرز اور ملک کے ہائیڈروکاربن ذخائر میں اضافہ کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹاک ایکسچینج او جی ڈی سی ایل پاکستان ڈرلنگ کنگریالی کنواں ہائیڈروکاربن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج او جی ڈی سی ایل پاکستان کنگریالی کنواں او جی ڈی سی ایل نے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔