ملیر میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہونے والا ملزم 12 سالہ بچے کا قاتل نکلا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
ملیرنشترآباد ریلوے ٹریک کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہونے والا ملزم 12 سالہ بچے کا قاتل نکلا
ملیرنشترآباد ریلوے ٹریک کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہونے والا ملزم ڈکیتی کے دوران 12 سالہ بچے کو قتل اوراس کی والدہ کوزخمی کرنے کے واقعے میں ملوث نکلا۔
ماڈل کالونی تھانے کے علاقے ملیر نشترآباد ریلوے ٹریک کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہونے والا ملزم محمد رضوان ولد فضل حکیم 15 مئی 2025 کو لانڈھی تھانے کی حدود میں ڈکیتی کے دوران 12 سالہ بچے امین عرف شانو کو قتل اور اس کی والدہ ناصرہ کو زخمی کرنے کے واقعے میں ملوث تھا۔
مقدمے کی تحقیقات ایس آئی یو پولیس کر رہی تھی ، پولیس حکام کے مطابق ہلاک ملزم متعدد سنگین مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا۔ ملزم کے خلاف الفلاح ، قائد آباد ، شرافی گوٹھ ، سکھن ،لانڈھی اورشاہ لطیف ٹاؤن تھانے میں قتل، ڈکیتی،غیرقانونی اسلحہ اورپولیس مقابلے سمیت دیگر دفعات کے تحت 24 سے زائد مقدمات درج تھے۔
ملزم کے خلاف ڈکیتی کی وارداتوں کی متعدد سی سی ٹی وی ویڈیوز بھی موجود ہیں ، پولیس کے مطابق دورانِ گشت پولیس نے مشکوک موٹر سائیکل سوار ملزمان کو رکنے کا اشارہ کیا گیا، جس پر ملزمان نے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔
دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک ڈکیت موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ اس کا ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ ہلاک ملزم محمد رضوان کے قبضے سے ایک پستول 30 بور بمعہ ایک لوڈ میگزین ، راؤنڈز اور سچل تھانے کی حدود سے چوری شدہ موٹر سائیکل برآمد کی گئی۔
ہلاک ملزم کے خلاف 2 مقدمات ماڈل کالونی تھانے میں درج کرلیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سالہ بچے
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔