امریکہ کا منشیات بردار کشتیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، تین ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سمندری حدود میں مبینہ منشیات اسمگلنگ میں ملوث تین کشتیوں پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی واشنگٹن کی جانب سے منشیات اسمگلروں کے خلاف جاری کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 110 تک پہنچ گئی ہے۔
امریکی سدرن کمانڈ، جو وسطی اور جنوبی امریکہ میں امریکی افواج کی کارروائیوں کی ذمہ دار ہے، کے مطابق یہ حملے ایک قافلے میں سفر کر رہی منشیات بردار تین کشتیوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔ ہلاک ہونے والے تینوں افراد ایک ہی کشتی پر سوار تھے۔
تاہم امریکی حکام نے ان حملوں کے درست جغرافیائی مقام کی فوری وضاحت نہیں کی۔ ماضی میں اس نوعیت کی کارروائیاں زیادہ تر بحیرہ کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل کے علاقوں میں کی جاتی رہی ہیں۔
یہ اقدام امریکہ کی جانب سے منشیات اسمگلنگ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس میں غیر قانونی منشیات کی ترسیل روکنے کے لیے سمندری کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔