گرم مشروبات کے بے احتیاط استعمال سے گلے کے سرطان کا خطرہ: تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گرم مشروبات جیسے چائے اور کافی انسانی زندگی میں سکون اور راحت کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں، لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ مشروبات ضرورت سے زیادہ گرم ہوں تو یہ نہ صرف عارضی تسکین دیتے ہیں بلکہ صحت کے لیے خطرہ بھی بن سکتے ہیں۔
بیشتر افراد چائے یا کافی اس وقت پیتے ہیں جب اس سے گرم دھواں نکل رہا ہو، کیونکہ محسوس ہونے والی حرارت ذہنی سکون فراہم کرتی ہے، لیکن انسانی غذا کی نالی اس قدر مضبوط نہیں کہ مسلسل شدید حرارت برداشت کر سکے لیکن تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ بہت زیادہ گرم مشروبات پینے سے گلے کے سرطان کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
برطانیہ کے بائیو بینک میں کیے گئے ریویو شدہ مطالعے میں واضح طور پر یہ نتیجہ سامنے آیا کہ وہ ممالک جہاں لوگ چائے یا دیگر گرم مشروبات ابال کر یا دھواں نکلتے ہوئے پیتے ہیں، وہاں گلے کے سرطان کی شرح زیادہ ہے۔ مسئلہ نہ تو کسی پراسرار عنصر کی وجہ سے ہے اور نہ ہی کوئی غیر معمولی بات، بلکہ یہ صرف شدید حرارت کے مستقل اثرات ہیں۔
گلے کی نالی معدے کی طرح محفوظ یا مضبوط نہیں ہوتی، یہ باریک اور حساس ٹشوز پر مشتمل ہے۔ بہت گرم مشروبات کے بار بار استعمال سے اندر کی پرت جلن محسوس کرتی ہے، ٹھیک ہوتی ہے اور پھر دوبارہ جلن پیدا ہوتی ہے۔
وقت کے ساتھ یہ مسلسل دباؤ خلیوں کے رویے کو بدل سکتا ہے اور گلے کے سرطان کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ بڑے گھونٹ پینے سے نقصان زیادہ ہوتا ہے کیونکہ مشروب گلے میں زیادہ دیر رہتا ہے اور ٹشوز پر اثر ڈال سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق روزانہ آٹھ یا اس سے زیادہ انتہائی گرم مشروبات پینے والے افراد میں گلے کے سرطان کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر مشروبات کی مقدار کم بھی ہو، لیکن درجہ حرارت بہت زیادہ ہو تو خطرہ موجود رہتا ہے۔ تھرماس یا تھرمل مگ میں مشروب کو گھنٹوں گرم رکھنا بھی خطرے کو بڑھا دیتا ہے، اس لیے صبح کا ایک ہی کپ بھی دن بھر کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین صحت نے مشورہ دیا ہے کہ مشروب کو تھوڑا ٹھنڈا ہونے دیا جائے، چمچ سے ہلایا جائے یا ڈھکن کھول کر بخارات جانے دیے جائیں، یا پھر تھوڑا سا ٹھنڈا پانی یا دودھ ملا کر درجہ حرارت کم کیا جائے۔
تحقیق کے مطابق تقریباً آٹھ سینٹی گریڈ سے کم حرارت والے مشروبات پینا محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ چھوٹی عادات بظاہر معمولی لگ سکتی ہیں، لیکن انسانی گلے کے نرم اور حساس ٹشوز کے لیے بہت اہم ہیں اور صحت کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گلے کے سرطان گرم مشروبات سکتا ہے ہے اور
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔