data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماسکو:روس نے صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ پر مبینہ یوکرینی ڈرون حملے کی ویڈیو جاری کر دی ہے، روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں ایک تباہ شدہ ڈرون کو برف سے ڈھکے جنگلاتی علاقے میں پڑا ہوا دکھایا گیا ہے۔

روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اور اس کا مقصد ایک مخصوص ہدف کو نشانہ بنانا تھا، حملے کے باوجود صدر پیوٹن کی رہائش گاہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

 

???????????????? – RUSSIA | UKRAINE

???? The Russian Ministry of Defense has released a video it claims shows the debris of a Ukrainian drone intercepted while heading toward the residence of Vladimir Putin in Valdai.

???? However, nighttime conditions and weather limitations make it… pic.twitter.com/PIW2aicE11

— NEXUSx (@Nexus_osintx) December 31, 2025

روس نے الزام لگایا ہے کہ یوکرین نے نووگورود ریجن میں واقع صدر کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، 28 اور 29 دسمبر کے درمیان یوکرین کی جانب سے 91 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون فائر کیے گئے، روسی فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ یوکرین کا یہ اقدام ریاستی دہشت گردی کے برابر ہے اور ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب یوکرین نے صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر ڈرون حملوں کے روسی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پیوٹن کی رہائش گاہ

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی