پاکستان کی پہلی تھیلیسیمیا موبائل وین کا افتتاح کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
ملک کی پہلی تھیلیسیمیا موبائل وین کا افتتاح کر دیا گیا۔کراچی میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں تھلیسیمیا کا بڑھتا رجحان تشویشناک ہے، حکومت اور قوم کی غفلت کے سبب تھلیسیمیا کے مریض آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نکاح سے قبل صرف لڑکے کا ٹیسٹ لازم قرار دے دیا جائے، دو مائنر جب شادی کرتے ہیں تو تھلیسمیا میجر بچہ پیدا ہوتا ہے، یہ سب کو معلوم ہے لیکن ٹیسٹ کوئی نہیں کرواتا۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مجھے چند دن قبل علم ہوا کہ اعضا کی پیوندکاری کیلئے ایک الگ ادارہ ہے، اس میں بون میرو کو بھی شامل کردیا ہے، تھلیسیمیا کے مرض کا علاج خون کی منتقلی اور بون میرو ٹرانسپلانٹ ہے اور 50 ہزار میں سے کوئی ایک شخص بون میرو میچ کرتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے بون میرو ٹرانسپلانٹ سے قبل اجازت کو ختم کیا، ہماری کوشش ہے کہ تھلیسیمیا کا ٹیسٹ نکاح سے قبل لازم قرار دیا جائے۔وفاقی وزیر نے پولیو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پولیو ویکسین سمیت دیگر چیزوں کے لیے پولیس لے کر جانی پڑتی ہے، ویکسین کو یہودیوں کا ایجنٹ اور بیرونی سازش قرار دے دیا جاتا ہے، آج تھلیسیمیا کے بچوں کے ذمہ دار صرف ان کے والدین ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔