—فائل فوٹو

27ویں ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ججز کی تعیناتیوں کے فریم ورک سے متعلق جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کر لیا گیا۔

جوڈیشل کمیشن نے مشاورت کے لیے اہم اجلاس کا تین نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا۔

ایجنڈے کے مطابق جوڈیشل کمیشن اجلاس 12جنوری کو ڈیڑھ بجے سپریم کورٹ کانفرنس روم میں ہوگا۔ 27ویں آئینی ترمیم سے آرٹیکل 175 اے کی شق 4 میں امیدوار ججوں کے انٹرویوز کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے پانچوں ہائیکورٹس میں 40 ایڈیشنل ججوں کی مستقلی، جوڈیشل کمیشن کے 5 اجلاس طلب جوڈیشل کمیشن اجلاس، سپریم کورٹ جج، سندھ و بلوچستان کے چیف جسٹس تعیناتی کی سفارش

جاری کردہ ایجنڈے میں کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن رولز 2025 میں امیدواروں کے انٹرویو کا طریقہ کار نہیں دیا گیا، اجلاس میں وفاقی آئینی عدالت میں مزید ججز کے تعیناتی کے لیے طریقہ کار پر غور ہو گا۔

ایجنڈے میں کہا گیا کہ ہائی کورٹس میں آئینی بینچز کے لیے ججز کی نامزدگیوں کا طریقہ کار بھی زیر غور آئے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: جوڈیشل کمیشن

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن