اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے ارکانِ پارلیمان کو الیکشن کمیشن کا آخری نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کو اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جمع کرانے کے معاملے پر سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مقررہ تاریخ تک قانونی تقاضا پورا نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ ارکان کی رکنیت معطل کر دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:’ہری پور ضمنی الیکشن کا فارم 47 اسلام آباد سے جاری ہوا‘، الیکشن کمیشن نے شفیع جان کا الزام مسترد کردیا
یکم جنوری 2026: الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق پارلیمان اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے تمام ارکان پر لازم تھا کہ وہ 31 دسمبر 2025 تک اپنے، اپنے شریکِ حیات اور زیرِ کفالت بچوں کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات فارم بی پر جمع کرائیں، جو الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ سینیٹ، قومی اسمبلی اور پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں کے بعض ارکان تاحال اس قانونی شق پر عملدرآمد نہیں کر سکے۔ ایسے تمام ارکان کو مطلع کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اسٹیٹمنٹ آف ایسٹس اینڈ لایبیلٹیز 15 جنوری 2026 تک دفتری اوقات میں الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی اراکینِ پارلیمنٹ کو معطلی کا خطرہ، الیکشن کمیشن نے خبردار کردیا
الیکشن کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ تاریخ تک اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے کی صورت میں 16 جنوری 2026 کو الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137(3) کے تحت ان ارکان کی رکنیت معطل کر دی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اثاثوں اور واجبات سے متعلق مقررہ فارم الیکشن کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیے جا سکتے ہیں، تاکہ ارکان بروقت قانونی ذمہ داری پوری کر سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اثاثہ جات اراکان اسمبلی الیکشن کمیشن گوشوارے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اثاثہ جات اراکان اسمبلی الیکشن کمیشن گوشوارے الیکشن کمیشن کی تفصیلات
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔