طالبان مخالفین کے رہنماؤں پر ایران میں ٹارگٹڈ حملے، طالبان کی سرحد پار کارروائیوں میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
طالبان مخالف افغان اپوزیشن لیڈرز کا کہنا ہے کہ چند روز قبل سابق افغان جنرل اکرام الدین سری اور ان کے ساتھی کمانڈر الماس کوہستانی کو تہران میں مسلح افراد نے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ طالبان کی سیاسی اور عسکری مخالفین کے خلاف کارروائیوں میں ایک بڑا اضافہ ہے، اور ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان کے باہر رہنا بھی اب محفوظ نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیںتہران میں طالبان مخالف افغان کمانڈر اکرام الدین سری قتل
افغان ذرائع کے مطابق اس حملے کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد طالبان کے انٹیلیجنس محکموں 376 اور 091 نے کی، اور ایران کے اسلامی انقلاب گارڈ کور (IRGC) سے روابط کے ساتھ اس پر عمل کیا گیا۔
سرحد پار کارروائی اور منصوبہ بندیافغان ذرائع کے مطابق 4 طالبان ایجنٹ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل افغانستان کی سرحد سے ایران داخل ہوئے، وہاں نگرانی کی، منصوبہ بندی مکمل کی اور حملہ کر کے فوری طور پر واپس افغانستان آ گئے۔ اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ طالبان کی انٹیلی جنس افغانستان کی سرحد کے باہر بھی مؤثر طریقے سے کام کر سکتی ہے اور اس کے لیے میزبان ممالک میں نیٹ ورک استعمال کر رہی ہے۔
سیاسی مخالفین کی حفاظت ناکافیافغان اپوزیشن لیڈرز کہنا ہے کہ حملے سے چند دن پہلے جنرل سری نے میڈیا میں واضح طور پر کہا تھا کہ ان کا نام اور دیگر سابق فوجی اہلکاروں کے نام طالبان کی ہدفی فہرست میں شامل ہیں۔ انہوں نے ایرانی حکام سے تحفظ کی درخواست بھی کی، مگر کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔
افغان اپوزیشن میڈیا کے مطابق کے مطابق یہ قتل طالبان کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے: مخالفین اور سیاسی رہنماؤں کو کسی بھی سرحد کے پار ہدف بنانا۔ تہران میں اعلیٰ سطح کے فوجی رہنماؤں کو نشانہ بنانا اس بات کا اشارہ ہے کہ طالبان اپنی رسائی دکھانا چاہتے ہیں اور مخالفین کو خوفزدہ کر رہے ہیں۔
کہانی کی تشہیر اور ذمہ داری چھپاناافغان ذرائع کے مطابق حملے کے بعد ایران اور طالبان نے عوامی رائے کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، تاکہ طالبان کی کارروائیوں پر سوالات نہ اٹھیں اور کسی بھی ممکنہ کردار سے ایران کو بچایا جا سکے۔ یہ اطلاعات کا کنٹرول افغان مخالفین کے لیے مزید خطرہ پیدا کرتا ہے، کیونکہ انہیں حقیقی خطرے کا اندازہ نہیں ہو پاتا۔
یہ بھی پڑھیں:کابل: طالبان انٹیلی جنس چیف کے معاون کی دھماکے میں ہلاکت کا دعویٰ
ایران طالبان تعلقات اور کارروائی میں مددافغان اپوزیشن میڈیا کے مطابق تہران اور طالبان کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔ طالبان کے سفارت خانے اور مشہد کے قونصل خانے نے بھی اس ہدفی قتل میں کردار ادا کیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران کی سرزمین طالبان کے لیے کارروائیوں کی اجازت دینے یا معاونت کرنے کا ماحول فراہم کر رہی ہے۔
افغان اپوزیشن لیڈرز کا کہنا ہے کہ ایران میں سابق افغان فوجی اور سیاسی رہنما خطرے میں ہیں، اور انہیں شدید احتیاط برتنی چاہیے، اپنی حفاظت کا جائزہ لینا چاہیے اور اگر ضرورت ہو تو رہائش تبدیل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ پاکستان میں افغان سابق فوجیوں کی حفاظت بہتر ہے، مگر ایران میں طالبان کے اثر اور عدم تحفظ کے باعث خطرہ زیادہ ہے۔
بین الاقوامی اور علاقائی اثراتافغان ذرائع کے مطابق طالبان کی سرحد پار کارروائیاں اور ایران کی ممکنہ معاونت علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ اگر ان خطرات کو روکا نہ گیا تو یہ کارروائیاں جاری رہ سکتی ہیں، جس سے افغان مخالفین کی حفاظت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا سلسلہ بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان اپوزیشن لیڈرز افغان حکومت اکرام الدین سری اہدافی قتل ایران تہران طالبان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان اپوزیشن لیڈرز افغان حکومت اکرام الدین سری اہدافی قتل ایران تہران طالبان افغان ذرائع کے مطابق افغان اپوزیشن لیڈرز طالبان کی طالبان کے کی سرحد کے لیے
پڑھیں:
لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
ترجمان اتحاد اُمت فورم کے مطابق کانفرنس کے دوران ’’استقبال محرم‘‘ کے عنوان سے ایک نشست شامل کی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے ماتمی سنگتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو استقبال محرم کی اس نشست میں ماتم اور نوحہ خوانی کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور میں 13 جون کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان اتحاد اُمت فورم کے مطابق کانفرنس کے دوران ’’استقبال محرم‘‘ کے عنوان سے ایک نشست شامل کی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے ماتمی سنگتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو استقبال محرم کی اس نشست میں ماتم اور نوحہ خوانی کریں گے۔ ترجمان کے مطابق ملک بھر سے معروف نوحہ خواں حضرات کو بھی خصوصی طور پر دعوت دی گئی ہے جبکہ ماتمی سنگتیں بھی دُختر رسولؑ کو پرسہ دیں گی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو نوحہ خواں حضرات اور ماتمی انجمنوں کے سالاروں سے رابطے کر رہی ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ماتمی سنگتوں کے سالاروں اور نوحہ خواں حضرات نے اظہار تشکر کیا ہے کہ انہیں بھی اس عظیم اجتماع میں شرکت کا موقع دیا جا رہا ہے۔ کانفرنس میں نوحہ خواں حضرات نوحہ خوانی کیساتھ شہیدِ امت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو بھی اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کریں گے۔