سردار قاسم سلیمانی کی حکمتِ عملی کے نتائج اب ظاہر ہو رہے ہیں، فرانسیسی دفاعی ماہر
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
تسنیم نیوز کیساتھ بات کرتے ہوئے فرانسیسی افسر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی مسلح افواج کا ردِعمل اسرائیل کے لیے تباہ کن ثابت ہوا، ایران کے حملوں کی درستگی اور طاقت نے نہ صرف (صہیونی) اسرائیل کو بلکہ امریکہ اور باقی دنیا کو بھی حیران کر دیا، کیونکہ وہ ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار نہیں تھے۔ اسلام ٹائمز۔ یورپی ملک فرانس کی فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر نے شہید حاج قاسم سلیمانی کی فکر و سوچ کا حوالہ دیتے ہوئے 12 روزہ جنگ میں ان کی دور اندیشی کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے خارجہ امور کے نامہ نگار کے مطابق فرانسیسی فوج کے ریٹائرڈ افسر اور لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج (یونیفل) کے سابق رکن آلن کروز نے تسنیم سے گفتگو میں شہید حاج قاسم سلیمانی کے افکار اور ایران کے خلاف مسلط کی گئی 12 روزہ جنگ پر ان کے اثرات کے بارے میں کہا کہ سب سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ میری نظر میں جنرل قاسم سلیمانی کی پہلی کامیابی اپریل 2024 میں بیجنگ میں نظر آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ایران اور سعودی عرب کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا اور اس کے تحت دونوں ممالک نے براہِ راست محاذ آرائی سے ہاتھ کھینچ لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک نہایت اہم پیش رفت تھی اور عین اسی بنیاد کے مطابق تھی جس پر جنرل قاسم سلیمانی کام کرتے تھے۔ اسی وجہ سے، اور اسی تناظر میں، انہیں بغداد میں اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ شیعہ اور سنی تمام مسلمانوں کے اتحاد کے تصور کو آگے بڑھانے کے لیے ملاقاتیں اور پیغامات ترتیب دے رہے تھے، یہ پہلا نکتہ ہے۔ کروز نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ 12 روزہ جنگ کے دوران ہم نے جنرل قاسم سلیمانی کی حکمتِ عملی کے نتائج بھی دیکھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی مسلح افواج کا ردِعمل اسرائیل کے لیے تباہ کن ثابت ہوا، ایران کے حملوں کی درستگی اور طاقت نے نہ صرف (صہیونی) اسرائیل کو بلکہ امریکہ اور باقی دنیا کو بھی حیران کر دیا، کیونکہ وہ ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار نہیں تھے کہ ایران کی بیلسٹک صلاحیت اس قدر بلند سطح تک پہنچ چکی ہے، ٹرمپ نے اسرائیل کو بچانے کے لیے مداخلت کی، کیونکہ یہ رجیم ہر لحاظ سے، بالخصوص میزائلوں اور فضائی دفاع کے میدان میں، شدید قلت کا شکار ہو چکی تھی، اگر ٹرمپ ایران سے جنگ بندی کی درخواست کے لیے مداخلت نہ کرتا تو ممکن تھا کہ اسرائیل مکمل طور پر تباہ ہو جاتا، اور یہ بات نہایت اہم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قاسم سلیمانی کی تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔