تسنیم نیوز کیساتھ بات کرتے ہوئے فرانسیسی افسر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی مسلح افواج کا ردِعمل اسرائیل کے لیے تباہ کن ثابت ہوا، ایران کے حملوں کی درستگی اور طاقت نے نہ صرف (صہیونی) اسرائیل کو بلکہ امریکہ اور باقی دنیا کو بھی حیران کر دیا، کیونکہ وہ ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار نہیں تھے۔ اسلام ٹائمز۔ یورپی ملک فرانس کی فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر نے شہید حاج قاسم سلیمانی کی فکر و سوچ کا حوالہ دیتے ہوئے 12 روزہ جنگ میں ان کی دور اندیشی کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے خارجہ امور کے نامہ نگار کے مطابق فرانسیسی فوج کے ریٹائرڈ افسر اور لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج (یونیفل) کے سابق رکن آلن کروز نے تسنیم سے گفتگو میں شہید حاج قاسم سلیمانی کے افکار اور ایران کے خلاف مسلط کی گئی 12 روزہ جنگ پر ان کے اثرات کے بارے میں کہا کہ سب سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ میری نظر میں جنرل قاسم سلیمانی کی پہلی کامیابی اپریل 2024 میں بیجنگ میں نظر آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ایران اور سعودی عرب کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا اور اس کے تحت دونوں ممالک نے براہِ راست محاذ آرائی سے ہاتھ کھینچ لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک نہایت اہم پیش رفت تھی اور عین اسی بنیاد کے مطابق تھی جس پر جنرل قاسم سلیمانی کام کرتے تھے۔ اسی وجہ سے، اور اسی تناظر میں، انہیں بغداد میں اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ شیعہ اور سنی تمام مسلمانوں کے اتحاد کے تصور کو آگے بڑھانے کے لیے ملاقاتیں اور پیغامات ترتیب دے رہے تھے، یہ پہلا نکتہ ہے۔ کروز نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ 12 روزہ جنگ کے دوران ہم نے جنرل قاسم سلیمانی کی حکمتِ عملی کے نتائج بھی دیکھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی مسلح افواج کا ردِعمل اسرائیل کے لیے تباہ کن ثابت ہوا، ایران کے حملوں کی درستگی اور طاقت نے نہ صرف (صہیونی) اسرائیل کو بلکہ امریکہ اور باقی دنیا کو بھی حیران کر دیا، کیونکہ وہ ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار نہیں تھے کہ ایران کی بیلسٹک صلاحیت اس قدر بلند سطح تک پہنچ چکی ہے، ٹرمپ نے اسرائیل کو بچانے کے لیے مداخلت کی، کیونکہ یہ رجیم ہر لحاظ سے، بالخصوص میزائلوں اور فضائی دفاع کے میدان میں، شدید قلت کا شکار ہو چکی تھی، اگر ٹرمپ ایران سے جنگ بندی کی درخواست کے لیے مداخلت نہ کرتا تو ممکن تھا کہ اسرائیل مکمل طور پر تباہ ہو جاتا، اور یہ بات نہایت اہم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قاسم سلیمانی کی تھا کہ کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم