data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260101-03-6
اسرائیل اور صومالی لینڈ کے درمیان باقاعدہ ویڈیو کانفرنس کے بعد دونوں جانب سے مشترکہ اعلامیے میں ’’باہمی تسلیم‘‘ اور سفارتی تعلقات کے قیام کا اعلان کیا گیا، جسے صومالی لینڈ کی قیادت نے اپنی ’’تاریخی کامیابی‘‘ اور عالمی سطح پر جائز مقام کی طرف قدم قرار دیا۔ مگر صومالیہ کی وفاقی حکومت نے فوری ردِ عمل میں اس فیصلے کو اپنی خودمختاری اور سالمیت پر کھلا حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور مسئلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل تک لے جانے کا اعلان کیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کی تاریخ تک دنیا کے کسی دوسرے ملک نے صومالی لینڈ کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا، اور اقوامِ متحدہ کے ریکارڈ میں یہ علاقہ اب بھی صومالیہ کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ یوں اسرائیل کا یہ فیصلہ اپنے تناظر میں منفرد، یکطرفہ اور ایک بڑے جیو پولیٹیکل منصوبے کا حصہ دکھائی دیتا ہے، جس کے پیچھے بحیرہ احمر اور باب المندب پر گرفت مضبوط کرنے کی سوچ صاف نظر آتی ہے۔

صومالی لینڈ کی بین الاقوامی حیثیت: صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ کی خانہ جنگی کے دوران خود کو ’’آزاد جمہوریہ‘‘ قرار دیا، اس کے بعد سے اس نے اپنی الگ حکومت، دارالحکومت ہرگیسا، علٰیحدہ ادارے اور نسبتاً مستحکم داخلی نظام قائم کر رکھا ہے۔ کئی بین الاقوامی مبصرین اور ماہرین ِ قانون کا ماننا ہے کہ آبادی، مؤثر حکومت اور بیرونی تعلقات کی صلاحیت جیسے مونٹی ویڈیو کنونشن کے بنیادی معیار صومالی لینڈ پورے کرتا ہے، اس لیے قانونی نقطہ ٔ نظر سے وہ ریاستی اہلیت کا دعویدار ہے۔ اس کے باوجود افریقی یونین، عرب لیگ، یورپی یونین اور بیشتر عالمی طاقتوں نے صومالیہ کی وحدت اور سرحدوں کے تسلسل کے اصول کو ترجیح دیتے ہوئے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے سے گریز کیا ہے، تاکہ براعظم افریقا میں علٰیحدگی پسندی کی نئی لہر نہ اٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ دسمبر 2025 تک اقوامِ متحدہ کے صرف ایک ہی رکن ملک، یعنی اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا، جس نے اخلاقی و قانونی بحث کو خالصتاً تزویراتی مفادات کے تابع بنا دیا۔

اسرائیلی مفادات: بحیرہ احمر، باب المندب اور ایران مخالف حکمت ِ عملی؛ صومالی لینڈ کی جغرافیائی اہمیت کا اندازہ صرف اس نقشے سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کا ساحل خلیج ِ عدن، باب المندب اور بحیرۂ احمر کے سنگم کے سامنے واقع ہے، بالکل اْس جگہ جہاں سے دنیا کی بڑی سمندری تجارت گزرتی ہے اور جہاں سے گزر کر اسرائیلی اور مغربی جہازوں کا روٹ بنتا ہے۔ یہی مقام یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں، ڈرون اور میزائل سرگرمیوں اور جہاز رانی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے حالیہ برسوں میں عالمی خبروں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ متعدد علاقائی تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ صومالی لینڈ کی ریاست تسلیم کرنے کے پس ِ پردہ اسرائیل کا اصل مقصد وہاں ایسے فوجی اور انٹیلی جنس ڈھانچے کا قیام ہے جو حوثیوں اور ایران کی نقل و حرکت پر براہِ راست نظر رکھ سکے اور بوقت ِ ضرورت ان کے خلاف کارروائی کا فوری طور پر موقع مل سکے۔ اسرائیلی تھنک ٹینکس کی رپورٹوں میں صومالی لینڈ کو ’’فاروَرڈ بیس‘‘ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جہاں سے نہ صرف یمن، بلکہ خلیج ِ عدن کے پورے خطے میں نگرانی، ڈرون آپریشنز اور خفیہ مشن چلانے کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔ پہلے ہی مرحلے میں صومالی لینڈ کے ساحلی شہر بیربرا میں متحدہ عرب امارات کا ایک بڑا فوجی اڈہ اور جدید ہوائی پٹی موجود ہے، جسے یمن جنگ کے دوران عملی طور پر آپریشنل بیس کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اسرائیل کے قریبی اتحادی کے اس اڈے کی موجودگی کے ساتھ اگر براہِ راست اسرائیلی رسائی اور سہولت کار نیٹ ورک بھی جڑ جائے تو پورا علاقہ حوثیوں، ایران اور دیگر علاقائی کھلاڑیوں کے لیے دباؤ کا نیا محور بن سکتا ہے۔

صومالیہ کے ساتھ زیادتی اور بین الاقوامی اصولوں کی پامالی: صومالیہ طویل عرصے سے خانہ جنگی، عسکریت پسندی، قحط اور ریاستی کمزوری کا شکار رہا ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر اس کی تسلیم شدہ سرحدوں اور ارضی وحدت کے اصول پر آج تک رسمی اتفاق موجود تھا۔ افریقی یونین کا موقف بھی یہی رہا کہ صومالی لینڈ مسئلہ کوئی استثنائی کیس ہو سکتا ہے، مگر اسے براعظم کی مجموعی سرحدی بندش کے اصول سے الگ نہیں کیا جا سکتا، ورنہ تقسیم کی نئی لہروں سے پورا مشرق وسطیٰ ہل سکتا ہے۔ ایسے پس منظر میں اسرائیل کا یکطرفہ فیصلہ صومالیہ کے لیے ایک سفارتی طمانچے کے مترادف ہے، کیونکہ اس سے ایک کمزور، جنگ زدہ اور قرضوں میں جکڑی ہوئی ریاست کی زمینی وحدت پر بیرونی طاقت اپنے مفاد کے لیے وار کر رہی ہے۔ صومالی حکومت نہ اس کے سامنے مکمل عسکری ردِ عمل کی صلاحیت رکھتی ہے، نہ معاشی طاقت کہ کسی بڑے بائیکاٹ، سفارتی دباؤ یا جوابی اتحاد کے ذریعے صورتحال کا مقابلہ کر سکے، اس لیے اسے اقوامِ متحدہ اور افریقی یونین کے پلیٹ فارموں پر ہی اپیل کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔

سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس الجزائر، سیئرا لیون، صومالیہ اور گیانا کی درخواست پر طلب کیا گیا، جس میں اسرائیلی فیصلے کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے تناظر میں زیر ِ بحث لایا جا رہا ہے۔ صومالیہ کا مقدمہ یہ ہے کہ اگر ایک طاقتور ملک کسی کمزور ریاست کے اندر واقع علٰیحدہ انتظامی یونٹ کو محض اپنے جیو پولیٹیکل مفاد کی خاطر تسلیم کر لے تو کل کو یہی اصول دنیا کے دوسرے خطوں کو بھی تقسیم اور عدم استحکام کی طرف دھکیل دے گا۔

اسرائیلی بد نیتی: صرف صومالی لینڈ کیوں؟ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی اسرائیل کو بین الاقوامی قانون، حق ِ خود ارادیت اور علاقائی استحکام سے دلچسپی ہوتی تو پھر دنیا بھر میں موجود درجنوں ایسے علاقوں میں سے صرف صومالی لینڈ ہی اس کے لیے اولین ترجیح کیوں بنا؟ فلسطین کے عوام جنہیں وہ اپنے زیر ِ قبضہ علاقوں میں بنیادی انسانی حقوق تک دینے سے انکاری ہے، ان کے لیے تو اسرائیل نے آج تک کسی حقیقی ریاستی حل کو تسلیم نہیں کیا، بلکہ زمینی حقائق تبدیل کر کے ہر طرح کے امن فارمولے کو کمزور کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ صومالی لینڈ کا انتخاب دو بنیادی وجوہات کے تحت کیا گیا: پہلی وجہ بحیرۂ احمر اور باب المندب پر چوک پوائنٹ کنٹرول، جہاں سے نہ صرف اسرائیلی جہاز گزرتے ہیں بلکہ عالمی تجارتی بحریہ کا بڑا حصہ بھی اسی راستے سے سفر کرتا ہے۔ دوسری وجہ ایران اور اس کے اتحادی حوثیوں پر جنوبی سمت سے دباؤ بڑھایا اسرائیل کا موقف ہے۔ تاکہ اسرائیل کے لیے یمن محاذ پر ایک نیا لانچنگ پیڈ اور انٹیلی جنس گرڈ میسر آ سکے۔ حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ صومالی لینڈ میں کسی بھی اسرائیلی موجودگی کو ’’جائز فوجی ہدف‘‘ تصور کیا جائے گا، اور اسے صومالیہ و یمن دونوں کے خلاف جارحیت قرار دیا۔

یہ اعلان خود اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کے اہم فریق اس فیصلے کو ایک غیر جانب دار سفارتی اقدام نہیں بلکہ دشمنی پر مبنی عسکری چال کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مزید تشویش ناک پہلو وہ رپورٹیں ہیں جن میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل، غزہ کے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کے منصوبوں کے لیے افریقی خطوں، بشمول صومالی لینڈ، کو ممکنہ ’’آبادیاتی ڈمپنگ زون‘‘ کے طور پر دیکھ سکتا ہے، حالانکہ سرکاری سطح پر اس پر کھل کر بات نہیں کی گئی۔ اگر ایسا کوئی منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو یہ نہ صرف فلسطینیوں کے حق ِ واپسی اور ان کی قومی شناخت کے ساتھ ظلم ہو گا بلکہ صومالیہ اور پورے ہارن آف افریقا کی آبادیاتی ساخت اور داخلی تنازعات کو بھی مزید بگاڑ دے گا۔

صومالیہ کے خلاف جیو پولیٹیکل انجینئرنگ: اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا محض ایک سفارتی قدم نہیں بلکہ ایک وسیع تر جیو پولیٹیکل انجینئرنگ کا حصہ ہے جس میں کمزور مسلم ریاستوں کو اندر سے تقسیم کر کے ان کے جغرافیے کو اس انداز سے ترتیب دینا شامل ہے کہ بحیرۂ احمر، خلیج ِ عدن اور مشرقِ وسطیٰ کے حساس راستوں پر اسرائیلی مفادات کو زیادہ سے زیادہ تحفظ ملے۔ صومالیہ جیسی ریاست، جو دہائیوں سے عالمی نظام میں حاشیے پر موجود ہے، اس ’’نئے کھیل‘‘ کی سب سے بڑی قیمت ادا کرنے پر مجبور نظر آ رہی ہے، کیونکہ اس کے ہاتھ سے اس کی زمینی وحدت اور ساحلی کنٹرول کا اہم حصہ بتدریج نکل رہا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کا عملی اظہار ہے کہ جب عالمی طاقتوں کے مفادات کا سوال ہو تو بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے منشور اور ریاستوں کی خود مختاری جیسے اصول ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں، اور نئے اتحاد، جیسے ابراہم اکارڈ، محض امن کے نام پر طاقت کے توازن کو یکطرفہ بنانے کے اوزار بن جاتے ہیں۔ صومالی لینڈ اور صومالیہ کے درمیان تاریخی، سیاسی اور قانونی تنازع اپنی جگہ، لیکن ایک فریق کو الگ کر کے صرف اس لیے تسلیم کرنا کہ وہاں سے دشمن پر حملے، سمندری راستوں پر کنٹرول اور اتحادیوں کے فوجی اڈوں کی توسیع آسان ہو جائے، کسی بھی طور اصولی اور نیک نیتی پر مبنی فیصلہ نہیں کہلا سکتا۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: صومالی لینڈ کو صومالی لینڈ کی کہ صومالی لینڈ بین الاقوامی جیو پولیٹیکل باب المندب صومالیہ کے اسرائیل کا کے طور پر تسلیم کر کو تسلیم کیا گیا کے خلاف نہیں کی جہاں سے سکتا ہے ہے کہ ا رہا ہے کے لیے کیا جا

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان