آزاد کشمیر: سرکاری نوکری کے خواہشمندوں کے لیے خوشخبری، عمر کی بالائی حد میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
آزاد جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری نوکری کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری سنا دی ہے۔
حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمتوں کے لیے عمر کی بالائی حد میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اب امیدوار 41 سال تک سرکاری نوکری کے لیے اہل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: بینظیر بھٹو کی برسی پر آزاد کشمیر میں عام تعطیل کا اعلان
وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سرکاری ملازمتوں کے لیے عمر کی حد میں ایک سال کی رعایت دینے کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعظم کے اعلان کی روشنی میں اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس کے بعد نئی عمر کی حد فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل آزاد کشمیر میں سرکاری ملازمت کے لیے عمر کی بالائی حد 40 سال مقرر تھی۔ عمر کی حد میں اضافے کے اس فیصلے سے ان امیدواروں کو فائدہ پہنچے گا جو ایک سال کی وجہ سے سرکاری ملازمت کے لیے نااہل قرار پاتے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Azad Kashmir Government Job آزاد کشمیر سرکاری نوکری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سرکاری نوکری سرکاری نوکری کے لیے عمر کی
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔