مقبوضہ کشمیر کے کئی اضلاع میں وی پی این پر پابندی، 10 گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260101-08-20
سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں حکومت نے انٹرنیٹ کو متوازی نیٹ ورک سے استعمال کرنے والی ٹیکنالوجی ’وی پی این‘ کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔کولگام، شوپیاں، کپوارہ، ڈوڈہ اور دیگر اضلاع کی مقامی انتظامیہ نے الگ الگ احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام امن و قانون کو برقرار رکھنے اور ہند مخالف عناصر کی طرف سے سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔منگل کے روز ضلع کپوارہ کے مجسٹریٹ سری کانت بالا صاحب سْوسے نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس پولیس کی طرف سے موصول اطلاعات کا حوالہ دیا گیا جن میں ’ورچْوَل پروائیویٹ نیٹ ورک‘ یا وی پی این کے بڑھتے استعمال پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔حکمنامے کے مطابق ’وی پی این سروسز سے خدشہ یہ ہے کہ اسے غیرقانونی اور ملک دشمن سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کچھ عناصر متوازی نیٹ ورک استعمال کرکے لوگوں میں حکومت کے تئیں نفرت پھیلاتے ہیں جس سے امن اور قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔کپواڑہ کے علاوہ شوپیان، کولگام، ڈوڈہ اور کئی دوسرے اضلاع کی انتظامیہ نے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ کوئی بھی شہری اس حکم نامے کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔پولیس کے مطابق گزشتہ ماہ کے دوران وی پی این استعمال کرنے والے 10 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کئی علاقوں میں پولیس لوگوں کے فونز کا معائینہ کررہی ہے اور کسی کے فون میں وی پی این کی کوئی ایپ پائی جائے تو اسے حراست میں لیا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔