سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی اونی کپڑے روزمرہ استعمال کا لازمی حصہ بن جاتے ہیں، مگر معمولی سی بے احتیاطی ان کی ساخت اور خوبصورتی کو متاثر کرسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اونی ملبوسات کی درست دیکھ بھال نہ کی جائے تو یہ جلد سکڑ سکتے ہیں، سخت ہو سکتے ہیں یا اپنی اصل شکل کھو بیٹھتے ہیں، جس سے قیمتی لباس ناقابلِ استعمال بھی ہوسکتا ہے۔

کپڑوں کی صفائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اونی کپڑوں کے ساتھ نرمی بنیادی اصول ہے۔ گرم پانی یا تیز رگڑ اون کے نازک ریشوں کو کمزور کر دیتی ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ انہیں ٹھنڈے یا نیم گرم پانی میں آہستگی سے دھویا جائے۔

اسی طرح سخت کیمیکل والے عام واشنگ پاؤڈر کے بجائے ہلکا لیکویڈ صابن زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے، جسے براہِ راست کپڑے پر لگانے کے بجائے پہلے پانی میں گھول لینا چاہیے۔

ہاتھ سے دھلائی کے دوران کپڑوں کو مروڑنے یا زور سے نچوڑنے سے پرہیز ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق گندے پانی کو نرمی سے دباکر نکالنا اور فوراً صاف پانی سے دھولینا کپڑے کی بناوٹ برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر واشنگ مشین استعمال کی جائے تو ڈیلکیٹ یا وول موڈ کا انتخاب کیا جائے اور تیز اسپن سے اجتناب کیا جائے، کیونکہ یہی احتیاط اونی کپڑوں کو سکڑنے سے بچاتی ہے۔

خشک کرنے کے مرحلے میں بھی خاص توجہ درکار ہوتی ہے۔ گیلے سویٹر یا شال کو ہینگر یا رسی پر لٹکانا غلطی سمجھی جاتی ہے، کیونکہ اس سے لباس اپنی شکل کھو سکتا ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اونی کپڑوں کو کسی ہموار سطح پر پھیلا کر اوپر ہلکا کپڑا رکھ دیا جائے تاکہ نمی آہستگی سے جذب ہوجائے۔

براہِ راست دھوپ میں اونی کپڑے سکھانا بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ تیز دھوپ اون کو سخت اور رنگ کو ماند کر دیتی ہے۔ ٹھنڈی اور ہوادار جگہ یا گھر کے اندر خشک کرنا زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، الماری میں رکھنے سے پہلے کپڑوں کا مکمل طور پر خشک ہونا ضروری ہے، ورنہ نمی بدبو یا پھپھوندی کا باعث بن سکتی ہے۔

کیڑوں سے بچاؤ کےلیے ماہرین نیم کے پتے یا نیفتھلین کی گولیاں استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اونی کپڑوں کی دھلائی، خشک کرنے اور ذخیرہ کرنے کے مراحل درست طریقے سے اختیار کیے جائیں تو یہ برسوں تک قابلِ استعمال رہتے ہیں اور ہر موسم میں نئے جیسے دکھائی دیتے ہیں۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اونی کپڑوں

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ