ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں، شرح خواندگی کو 90 فیصد کرنے کی ضرورت ہے: احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک میں تعلیمی بحران کو ایک سنگین قومی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور اب معرکۂ حق کے بعد معرکۂ ترقی کے لیے سنجیدہ اور مسلسل محنت ناگزیر ہو چکی ہے، اگر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو تعلیم کو اولین ترجیح بنانا ہوگی۔
اسلام آباد میں ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے اجرا کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ ’’اڑان پاکستان‘‘ کے وژن کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے سو فیصد بچوں کو اسکولوں میں داخل کیا جائے، جبکہ شرح خواندگی کو 90 فیصد تک لے جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جہالت کے خاتمے کے لیے ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنا ہوگی تاکہ آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل فراہم کیا جا سکے، اب بحرانوں کا دور پیچھے رہ چکا ہے اور ملک بتدریج معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو اب ڈیٹا کی بنیاد پر چلانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، جس کی عملی مثال ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری اور ڈیجیٹل زرعی شماری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مستند اور جدید ڈیٹا کی دستیابی سے بہتر اور مؤثر منصوبہ بندی ممکن ہو سکے گی، جو قومی ترقی کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔
احسن اقبال نے گزشتہ پانچ برسوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے شدید معاشی بحرانوں کا سامنا کیا، جن میں پہلا بڑا بحران 2018 کی سیاسی تبدیلی کے بعد سامنے آیا۔
وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی کے نتیجے میں درآمدات کا بحران پیدا ہوا، ملک نے اپنی میکرو اکنامک بنیاد کھو دی، اور اس تمام صورتحال کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور متوسط طبقے کو اٹھانا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں شرح نمو 3 اعشاریہ 71 فیصد رہی ہے، جبکہ حکومت معاشی ترقی کے تسلسل کے لیے برآمدات میں اضافے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، سماجی شعبے کے اشاریوں میں بھی بہتری آئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک آہستہ آہستہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: احسن اقبال وفاقی وزیر کے لیے
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔