کچے میں جرائم پیشہ افراد کیخلاف آپریشن پوری قوت سے جاری رہنا چاہیے، وزیر اعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ : فائل فوٹو
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کچے میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن پوری قوت سے جاری رہنا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سے نئے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے ملاقات کی، مراد علی شاہ نے سندھ پولیس کی کمان سنبھالنے پر آئی جی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ پولیس کا عوام دوست تاثر بحال کرنے کیلئے بھرپور اقدامات کیے جائیں، سیف سٹی پروجیکٹ کو موثر بنانے پر توجہ دی جائے، حکومت سندھ پولیس کی بہتری کےلیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار سے بھی آئی جی سندھ نے ملاقات کی، جرائم کے سدباب، اسٹریٹ کرائم اور منظم جرائم کے خلاف حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وزیر اعلی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک