شہباز شریف اور شہزادہ محمد میں ٹیلی فونک رابطہ، تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم، اتحاد امت ضروری: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ شام سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم، شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ وزیراعظم نے خادمِ حرمینِ شریفین، عزت مآب شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے اپنے احترام اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ پاکستان کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی محبت، خلوص اور گرمجوشی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ حالیہ مہینوں میں نئی بلندیوں کو چھونے والے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے مختلف چیلنجز کے تناظر میں امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹیلیفونک رابطے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی مملکت کی خواہش کا اعادہ کیا۔ انہوں نے آئندہ برس پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ دوسری طرف وزیراعظم محمد شہبازشریف سے پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے آج شام وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے خادم حرمین شریفین عزت مآب شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے اور سعودی عرب کے وزیر اعظم و ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے اپنے احترام اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ضرورت کے وقت سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی مسلسل حمایت اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں اس کے تعمیری کردار کو بھی سراہا۔ سعودی سفیر نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے وزیراعظم کو تہنیتی پیغام پہنچایا۔ دریں اثناء وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے معاشی بہتری کیلئے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل فیصلوں کے نتائج سامنے آ رہے ہیں ، دو سال کے دوران پاکستان نے بہترین معاشی ترقی کی ہے، غیر متزلزل عزم سے چیلنجز کا مقابلہ کیا اور ملک کو درست سمت میں گامزن کر دیا، اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو کامیابی ہمارا مقدر ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں اقتصادی گورننس اصلاحات کی تقریب رونمائی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سمیت وفاقی وزراء، حکومت کی معاشی ٹیم کے ارکان اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے حکومت کی معاشی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جب اقتدار سنبھالا تو ہمیں شدید چیلنجز کا شکار معیشت ورثے میں ملی، چیلنجز کے باوجود ہم نے ملک کو دوبارہ درست سمت میں ڈال دیا ہے۔ ہمارے سامنے بڑے چیلنجز تھے جن سے نمٹنا آسان نہ تھا، معاشی طور پر ہم مشکلات میں گھرے ہوئے تھے، انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سلمان بن عبدالعزیز ا ل سعود انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے پاکستان کے اصلاحات کے پاکستان کی شہباز شریف کرتے ہوئے حکومت کی ارب ڈالر کی معاشی مالی سال ہوئے کہا کا اظہار ہوئے کہ بڑھ کر کے لیے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔