اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ شام سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم، شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ وزیراعظم نے خادمِ حرمینِ شریفین، عزت مآب شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے اپنے احترام اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ پاکستان کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی محبت، خلوص اور گرمجوشی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ حالیہ مہینوں میں نئی بلندیوں کو چھونے والے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے مختلف چیلنجز کے تناظر میں امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹیلیفونک رابطے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی مملکت کی خواہش کا اعادہ کیا۔ انہوں نے آئندہ برس پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ دوسری طرف  وزیراعظم محمد شہبازشریف سے پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے آج شام وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے خادم حرمین شریفین عزت مآب شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے اور سعودی عرب کے وزیر اعظم و ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے اپنے احترام اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ضرورت کے وقت سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی مسلسل حمایت اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں اس کے تعمیری کردار کو بھی سراہا۔ سعودی سفیر نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے وزیراعظم کو تہنیتی پیغام پہنچایا۔ دریں اثناء وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے معاشی بہتری کیلئے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل فیصلوں کے نتائج سامنے آ رہے ہیں ، دو سال کے دوران پاکستان نے بہترین معاشی ترقی کی ہے، غیر متزلزل عزم سے چیلنجز کا مقابلہ کیا اور ملک کو درست سمت میں گامزن کر دیا، اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو کامیابی ہمارا مقدر ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں اقتصادی گورننس اصلاحات کی تقریب رونمائی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سمیت وفاقی وزراء، حکومت کی معاشی ٹیم کے ارکان  اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے حکومت کی معاشی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جب  اقتدار سنبھالا تو ہمیں شدید چیلنجز کا شکار معیشت ورثے میں ملی، چیلنجز کے باوجود ہم نے ملک کو دوبارہ درست سمت میں ڈال دیا ہے۔ ہمارے سامنے بڑے چیلنجز تھے جن سے نمٹنا آسان نہ تھا، معاشی طور پر ہم مشکلات میں گھرے ہوئے تھے،  انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.

3 ارب ڈالر سے تبدیل ہو کر 1.9 ارب ڈالر کے سرپلس میں بدل چکا ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب تقریباً 8 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد سے زائد ہو گیا ہے۔ گزشتہ 2 سال میں پاکستان نے بہترین معاشی ترقی کی ہے۔ وزیر اعظم نے حکومت کی اہم کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ افراط زر 29.2 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آ چکا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 9.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 21.2 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، 10 لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندگان نظام میں شامل ہوئے ہیں، حکومتی نظام کو وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل پر منتقل کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چیلنجز کے باوجود ہم نے ملک کو دوبارہ درست سمت میں ڈال دیا ہے، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی کامیابیوں کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے حکومت کی معاشی بہتری اور اصلاحات کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی اصلاحات آسان کام نہیں تھا، پاکستان سرمایہ کاری کیلئے پرکشش ملک بن چکا ہے۔ اقتصادی اصلاحات پاکستان کے بہتر مستقبل کا پتہ دے رہی ہیں، ہم کاغذی نہیں، عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے سٹرکچرل ریفارمز کو حکومت کااہم  ایجنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری اپنی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر پاکستان ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن نہیں ہو سکتا، بین الاقوامی اداروں کی مشاورت سے ہم نے جو اصلاحات کی ہیں یہ ہمارے اپنے مفاد میں ہیں، ہم اپنے عوام کو جوابدہ ہیں، عوام نے ہمیں جو  ذمہ داری دی ہے اس سے احسن طریقے سے عہدہ برآ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیش پہلی بار عمل میں آئی ہے ، مالی نظم و ضبط بحال اور سرکاری مالیاتی نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ پاکستان کو کاروبار کے لئے زیادہ آسان ملک بنانے پر توجہ مرکوز ہے۔ وزیر اعظم نے اقتصادی اصلاحات کے سلسلے میں کام کرنے والی حکومتی ٹیم اور کابینہ کے ممبران کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ طویل اور سخت سفر ہے، ابھی مزید چیلنجز کا سامنا ہے، غیر متزلزل عزم سے آگے بڑھتے رہے اور سخت محنت سے کام کیا تو کامیابی ہمارا مقدر ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم آفس میں منعقدہ تقریب میں وزیراعظم کی  اقتصادی گورننس  اصلاحات کا باضابطہ آغاز کیا گیا جو معیشت کو محض کلی معیشت کے استحکام   کے مرحلے سے نکالتے ہوئے  نمو پر مبنی اور اصلاحات پر مرکوز اقتصادی فریم ورک کی جانب فیصلہ کن پیش رفت کی علامت ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات  سینیٹر محمد اورنگزیب نے  اصلاحات کے  ایجنڈے پر جامع بریفنگ دی۔ پاکستان کی معاشی بحالی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کلی معیشت کے  مضبوط، استحکام اور اہم معاشی اشاریوں میں بہتری پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ وزیرخزانہ نے بتایا کہ گزشتہ  مالی سال(2024-25ء) میں ملک کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 3.1 فیصد رہی جو مالی سال 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں مزید بڑھ کر 3.71 فیصد تک پہنچ گئی۔ مہنگائی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ مالی سال 2025ء میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 4.5 فیصد رہی، مالی سال 2026ء کے ابتدائی پانچ مہینوں کے دوران موسمیاتی عوامل کے باوجود افراط زر کی شرح 5 فیصد کی سطح پر رہی۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ مالی نظم و ضبط کا مظاہرہ مالی سال 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں مالیاتی فاضل (فسکل سرپلس) کے حصول سے ہوا جو مالی سال 2025ء کی پہلی سہ ماہی کے بعد دوسری مرتبہ ہواہے، پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 2.7 فیصد تک پہنچ گیا۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ محصولات کے شعبے میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجہ میں بہتری کا ثبوت ایف بی آر کے جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں میں اضافہ، اضافے سے ملا ہے  جو مالی سال 2025ء میں بڑھ کر 10.2 فیصد ہو گیا جو گزشتہ 25 برسوں میں بلند ترین سطح ہے۔ پریزنٹیشن کے اختتام پر وفاقی وزیر خزانہ نے اصلاحات کے نفاذ کے اگلے مرحلے کا خاکہ پیش کیا جو تین بنیادی شعبوں پر مشتمل ہوگا، نگرانی سینئر کابینہ کرے گی، وزارت خزانہ سیکرٹریٹ کے طور پر کام کرے گی اور ترقیاتی شراکت دار  خصوصی تکنیکی یونٹ کی معاونت فراہم کریں گے تاکہ پالیسی پر مسلسل مکالمہ اور اصلاحات کا تسلسل یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قوم کو سال نو کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2025ء کا سال تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا جب مسلح افواج اور قوم نے شانہ بشانہ دشمن کے عزائم کو ناکام بناتے ہوئے معرکہ حق میں تاریخ رقم کی، خدا کرے کہ نئے سال کا ہر دن ملکی سالمیت، قومی ہم آہنگی جیسی اقدار کومضبوط تر کرے اور معاشی آسودگی، سماجی و معاشرتی خوشحالی کی نوید لے کر آئے۔ شانہ بشانہ دشمن کے عزائم کو ناکام بناتے ہوئے معرکہ حق میں تاریخ رقم کی۔ پاکستان کے شاہینوں نے فضائی حدود کا ایسا ناقابل تسخیر دفاع کیا جو  دنیا کے لیے مثالی کامیابی اور دنیا کے جنگجوئوں کے لئے نصابی سطح پر سبق آموز مقابلہ تھا۔ انشاء اللہ پوری قوم اپنی دلیر، بہادر اور باصلاحیت افواج کے ساتھ  مل کر ملک کے دفاع میں ہمیشہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس دہشت گردی کے حملوں میں مادر وطن کے لئے اپنی جان کی قربانی پیش کرنے والے شہداء کو بھی پوری قوم کی طرف سے آج کے دن خصوصی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سلمان بن عبدالعزیز ا ل سعود انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے پاکستان کے اصلاحات کے پاکستان کی شہباز شریف کرتے ہوئے حکومت کی ارب ڈالر کی معاشی مالی سال ہوئے کہا کا اظہار ہوئے کہ بڑھ کر کے لیے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ