مشکل فیصلوں کے نتائج معاشی اعداد و شمار میں نظر آ رہے ہیں، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دو سال قبل جو معیشت انہیں ورثے میں ملی تھی وہ شدید چیلنجز کا شکار تھی اور معاشی طور پر ملک مشکلات میں گھرے ہوئے تھا تاہم حکومت کے کیے گئے مشکل فیصلوں کے نتائج اب خود بول رہے ہیں۔
اقتصادی گورننس اصلاحات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اقتدار سنبھالنے کے وقت متعدد چیلنجز موجود تھے اور معاشی اصلاحات لانا کوئی آسان کام نہیں تھا، افراط زر کی شرح اس وقت 30 فیصد تک پہنچ چکی تھی اور معیشت انتہائی دباؤ کا شکار تھی۔
وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مشکل فیصلے کیے اور اب اس کے نتائج صاف نظر آ رہے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 12 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔ 2025 میں ٹیکس وصولیوں میں 26 فیصد اضافہ ہوا اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 8 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہوگئی۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران حکومت نے 10 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو نظام میں شامل کیا، اور پی آئی اے اور فرسٹ ایمن بینک کی کامیاب نجکاری عمل میں لائی گئی۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت نے ملک کو درست سمت میں ڈال دیا ہے اور معاشی بہتری کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں، یہ اقدامات ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔