خالدہ ضیاء پر جیل میں تشدد: موت کی ذمہ دار شیخ حسینہ ہے، بنگلہ دیشی مشیر قانون
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
قانونی امور کے مشیر ڈاکٹر آصف نذرالاسلام نے منگل کے روز الزام عائد کیا ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اور ان کی حکومت بی این پی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیاء کی موت کی ذمہ دار ہے، کیونکہ ان کے بقول خالدہ ضیاء کو مختلف ادوار میں جیل میں شدید اذیت اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈاکٹر آصف نذرالاسلام نے کہا کہ اگر انہیں مختلف مواقع پر جیل میں تشدد کا نشانہ نہ بنایا جاتا تو شاید ہم انہیں اتنی جلدی نہ کھوتے۔ میرا ذاتی طور پر یہ یقین ہے کہ فاشسٹ وزیراعظم شیخ حسینہ اور ان کی حکومت یقینی طور پر بیگم ضیاء کی موت کی ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے یہ بات دوپہر کے وقت اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنا میں ایڈوائزری کونسل کے خصوصی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بیگم خالدہ ضیاء انتقال کر گئیں
آصف نذرالاسلام کا کہنا تھا کہ خالدہ ضیاء کو ایک ایسے فیصلے کے تحت جیل بھیجا گیا جو ان کے بقول ’مضحکہ خیز‘ تھا، اور دورانِ قید انہیں ناقابلِ بیان اذیت دی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعد ازاں اپیلوں اور نظرثانی کے مراحل میں یہ سزا بے بنیاد ثابت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ، خصوصاً اپیلیٹ ڈویژن، اپنے متعدد فیصلوں میں واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ وہ مقدمہ جس میں بیگم خالدہ ضیاء کو سزا سنائی گئی، بنیادی طور پر کمزور، جان بوجھ کر بنایا گیا اور مشکوک تھا۔
عبوری حکومت کے کردار پر بات کرتے ہوئے قانونی مشیر نے کہا کہ چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس خود خالدہ ضیاء کے علاج سے متعلق تمام معاملات کی نگرانی کر رہے تھے۔
آصف نذرالاسلام کے مطابق ’اگر انہیں دوبارہ بیرونِ ملک علاج کے لیے بھیجنے کا کوئی موقع میسر آتا تو ہماری حکومت مکمل تعاون کرتی۔ چیف ایڈوائزر خود ان معاملات پر نظر رکھے ہوئے تھے، مگر ہماری بدقسمتی یہ رہی کہ ہم اس حوالے سے پہلے کوئی قدم نہ اٹھا سکے۔‘
یہ بھی پڑھیے کبھی نہ ہارنے والی خالدہ ضیا جو سیاست میں نہیں آنا چاہتی تھیں
انہوں نے مزید کہا ’ہماری سب سے بڑی تسلی یہ ہے کہ بیگم خالدہ ضیاء پورے ملک کے عوام کی محبت، عزت اور وقار کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔‘
ڈاکٹر آصف نذرالاسلام نے یہ بھی بتایا کہ وزارتِ داخلہ میں ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ خالدہ ضیاء کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے موقع پر مناسب سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ کل جنازہ اور تدفین پُرامن اور منظم انداز میں ہو۔ اس کے لیے ہم سب کے تعاون کے خواہاں ہیں۔‘
انہوں نے سابق حکومت کے خاتمے کے بعد میڈیا کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو صحافتی اداروں کی جانب سے بھرپور تعاون حاصل رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیشی مشیر قانون شیخ حسینہ واجد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیشی مشیر قانون شیخ حسینہ واجد بیگم خالدہ ضیاء آصف نذرالاسلام انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔