حکمران جماعت شہریوں کو ترقی کے نام پر دھوکا دے رہی ہے‘ علامہ مبشر حسن
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) مجلس وحدت مسلمین کراچی کے رہنما علامہ مبشر حسن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے شہر کو پاکستان کے سب سے ترقی یافتہ شہر بنانے کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ برسر اقتدار جماعت شہریوں کو ترقی کے نام پر مسلسل دھوکا دے رہی ہے۔ شہر میں جاری بیشتر ترقیاتی منصوبے تاحال نامکمل ہیں جبکہ زمینی حقائق حکومتی دعووں کے برعکس ہیں۔ گزشتہ 17سالوں سے شہر پر مسلط حکمران جماعت نے صرف کرپشن پر زور دیا۔ کرپشن میں ملوث مختلف افراد آج بھی حکومت میں وزیر بنے ہوئے ہیں۔ اربوں روپے کے پیکیجز کے اعلانات تو کیے جاتے ہیں مگر شفافیت اور بروقت تکمیل کا کوئی نظام موجود نہیں۔ اگر ان کی نااہلی‘ غیر ذمہ داری پر کوئی سوال اٹھائے تواسے سیاسی الزامات کی سیاست کا بہانہ بناکر جان چھڑا لی جاتی ہے۔ شہریوں کی روزمرہ زندگی مشکلات کا شکار ہے۔ حکومت کی نااہلی کے باعث شہر قائد کی معیشت اور عوام دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔ اگر واقعی کراچی کی سڑکوں اور ٹریفک کی بہتری پر 194 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں تو شہر میں ٹوٹی سڑکیں‘ بدترین ٹریفک جام‘ سیوریج کے ابلتے نالے اور آئے روز ہونے والے حادثات کیوں نظر آتے ہیں؟ کراچی آج بھی پانی‘ بجلی‘ صحت‘ تعلیم اور صفائی جیسے بنیادی مسائل سے دوچار ہے جو حکومتِ سندھ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ شاہراہِ بھٹو، ملیر ندی پْل اور انڈر پاسز کے نام پر منصوبے تو اعلانوں تک محدود ہیں جبکہ شہری روزانہ گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسنے پر مجبور ہیں۔ ترقی کے نام پر تاخیر، ناقص منصوبہ بندی اور بدعنوانی نے کراچی کو ایک اذیت ناک شہر بنا دیا ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری کے دعوے بھی محض کاغذی ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں سہولتوں کا فقدان، ادویات کی کمی اور عملے کی قلت معمول بن چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے نام پر
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔