سوشل میڈیا پر اپنے ذاتی صفحے پر وزیر خارجہ نے زور دیا کہ واشنگٹن کے سامنے انتخاب بالکل واضح ہے، یا تو اسرائیل اور اس کے نیابتی عناصر کی مسخ شدہ روایات پر انحصار جاری رکھے، جن کا نتیجہ امریکہ کے لیے عدم استحکام، غلط اندازے اور مہنگی ناکامیوں کے سوا کچھ نہیں رہا یا پھر عقلانیت، سفارت کاری اور باہمی احترام کے راستے پر گامزن ہو۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایرانی جنگ سے نہیں ڈرتے، تاہم ایران کبھی بھی ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ تصادم کا خواہاں نہیں رہا، تہران کا ضبط و تحمل، جسے ہرگز کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے، یہی صبر و تحمل خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے محفوظ رہنے کی واحد وجہ رہی ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق، وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا صفحے پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے، امریکہ کے سامنے موجود انتخاب کی شفافیت پر زور دیا اور کہا کہ واشنگٹن یا تو صہیونی رجیم کی جانب سے گھڑی گئی اور مسلط کی گئی جعلی روایات پر انحصار کرتا رہے، یا پھر حقیقت پسندی، سفارت کاری اور باہمی احترام کا راستہ اختیار کرے۔

انہوں نے امریکہ اور مغربی ممالک کے اندر بڑھتی ہوئی تنقیدی آوازوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تجزیہ کاروں اور سیاست دانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اسرائیل ایک اتحادی نہیں بلکہ امریکہ کے کندھوں پر ایک اضافی بوجھ ہے؛ ایک ایسی حقیقت جو بالخصوص خرداد اور تیر کے مہینوں میں واضح طور پر سامنے آئی۔ عراقچی نے نشاندہی کی کہ اسی دوران بنیامین نیتن یاہو کو اپنی خودساختہ بحران سے نکلنے کے لیے اُس وقت کے امریکی صدر سے مدد مانگنا پڑی، جبکہ مغربی ذرائع ابلاغ اسرائیلی فضائی حدود کی اس حقیقی کمزوری کو درست طور پر اجاگر نہ کر سکے جو ایران کی مقامی اور ترقی یافتہ میزائل صلاحیتوں کے مقابلے میں نمایاں ہو چکی تھی۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی مکمل تیاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اور اعلیٰ ترین سطح کی تیاری برقرار رکھتے ہوئے، ایران کی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے بدستور تیار ہیں، ایسا جواب جسے صدر ٹرمپ نے خود بھی ’’انتہائی شدید‘‘ قرار دیا تھا۔ عراقچی نے مزید کہا کہ غلط حساب کتاب میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ایرانی جنگ سے نہیں گھبراتے، جیسا کہ ہر دور میں ثابت بھی ہوا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ مشترکہ مفادات سے متعلق امور میں ایک منصفانہ اور متوازن معاہدے کے حصول کے لیے حقیقی اور سنجیدہ مذاکرات کے لیے آمادہ رہا ہے اور اس نے کبھی بھی گفت و شنید سے منہ نہیں موڑا، ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں، اور یہ مؤقف کوئی سیاسی حربہ نہیں بلکہ ملکی اسٹریٹجک نظریے کا حصہ ہے جو دینی اصولوں، اخلاقی تقاضوں اور قومی سلامتی کے حسابات پر مبنی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی اپنے قانونی اور جائز حقوق، جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کا سرمایہ ہیں، ان سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ وزیر خارجہ نے آخر میں زور دیا کہ واشنگٹن کے سامنے انتخاب بالکل واضح ہے، یا تو اسرائیل اور اس کے نیابتی عناصر کی مسخ شدہ روایات پر انحصار جاری رکھے، جن کا نتیجہ امریکہ کے لیے عدم استحکام، غلط اندازے اور مہنگی ناکامیوں کے سوا کچھ نہیں رہا یا پھر عقلانیت، سفارت کاری اور باہمی احترام کے راستے پر گامزن ہو۔ عراقچی کے مطابق، جو لوگ ماضی سے ہٹ کر مختلف راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے اب صرف ایک مختصر موقع کی کھڑکی باقی رہ گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکہ کے عراقچی نے انہوں نے زور دیا کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی