ہمارا صبر و تحمل امریکی فوجی اڈوں کے محفوظ رہنے کی واحد وجہ ہے، ایران
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
سوشل میڈیا پر اپنے ذاتی صفحے پر وزیر خارجہ نے زور دیا کہ واشنگٹن کے سامنے انتخاب بالکل واضح ہے، یا تو اسرائیل اور اس کے نیابتی عناصر کی مسخ شدہ روایات پر انحصار جاری رکھے، جن کا نتیجہ امریکہ کے لیے عدم استحکام، غلط اندازے اور مہنگی ناکامیوں کے سوا کچھ نہیں رہا یا پھر عقلانیت، سفارت کاری اور باہمی احترام کے راستے پر گامزن ہو۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایرانی جنگ سے نہیں ڈرتے، تاہم ایران کبھی بھی ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ تصادم کا خواہاں نہیں رہا، تہران کا ضبط و تحمل، جسے ہرگز کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے، یہی صبر و تحمل خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے محفوظ رہنے کی واحد وجہ رہی ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق، وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا صفحے پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے، امریکہ کے سامنے موجود انتخاب کی شفافیت پر زور دیا اور کہا کہ واشنگٹن یا تو صہیونی رجیم کی جانب سے گھڑی گئی اور مسلط کی گئی جعلی روایات پر انحصار کرتا رہے، یا پھر حقیقت پسندی، سفارت کاری اور باہمی احترام کا راستہ اختیار کرے۔
انہوں نے امریکہ اور مغربی ممالک کے اندر بڑھتی ہوئی تنقیدی آوازوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تجزیہ کاروں اور سیاست دانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اسرائیل ایک اتحادی نہیں بلکہ امریکہ کے کندھوں پر ایک اضافی بوجھ ہے؛ ایک ایسی حقیقت جو بالخصوص خرداد اور تیر کے مہینوں میں واضح طور پر سامنے آئی۔ عراقچی نے نشاندہی کی کہ اسی دوران بنیامین نیتن یاہو کو اپنی خودساختہ بحران سے نکلنے کے لیے اُس وقت کے امریکی صدر سے مدد مانگنا پڑی، جبکہ مغربی ذرائع ابلاغ اسرائیلی فضائی حدود کی اس حقیقی کمزوری کو درست طور پر اجاگر نہ کر سکے جو ایران کی مقامی اور ترقی یافتہ میزائل صلاحیتوں کے مقابلے میں نمایاں ہو چکی تھی۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی مکمل تیاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اور اعلیٰ ترین سطح کی تیاری برقرار رکھتے ہوئے، ایران کی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے بدستور تیار ہیں، ایسا جواب جسے صدر ٹرمپ نے خود بھی ’’انتہائی شدید‘‘ قرار دیا تھا۔ عراقچی نے مزید کہا کہ غلط حساب کتاب میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ایرانی جنگ سے نہیں گھبراتے، جیسا کہ ہر دور میں ثابت بھی ہوا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ مشترکہ مفادات سے متعلق امور میں ایک منصفانہ اور متوازن معاہدے کے حصول کے لیے حقیقی اور سنجیدہ مذاکرات کے لیے آمادہ رہا ہے اور اس نے کبھی بھی گفت و شنید سے منہ نہیں موڑا، ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں، اور یہ مؤقف کوئی سیاسی حربہ نہیں بلکہ ملکی اسٹریٹجک نظریے کا حصہ ہے جو دینی اصولوں، اخلاقی تقاضوں اور قومی سلامتی کے حسابات پر مبنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی اپنے قانونی اور جائز حقوق، جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کا سرمایہ ہیں، ان سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ وزیر خارجہ نے آخر میں زور دیا کہ واشنگٹن کے سامنے انتخاب بالکل واضح ہے، یا تو اسرائیل اور اس کے نیابتی عناصر کی مسخ شدہ روایات پر انحصار جاری رکھے، جن کا نتیجہ امریکہ کے لیے عدم استحکام، غلط اندازے اور مہنگی ناکامیوں کے سوا کچھ نہیں رہا یا پھر عقلانیت، سفارت کاری اور باہمی احترام کے راستے پر گامزن ہو۔ عراقچی کے مطابق، جو لوگ ماضی سے ہٹ کر مختلف راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے اب صرف ایک مختصر موقع کی کھڑکی باقی رہ گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکہ کے عراقچی نے انہوں نے زور دیا کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان(Aleema khan) نے کہا کہ حکمراں اتنے خوفزدہ ہیں کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کو بتایا ہوا ہے باہر جا کر بات نہیں کرنا۔
راولپنڈی میں گورکھپور فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے اور خوفزدہ ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آج اڈیالہ جیل کے اطراف کرفیو لگایا گیا ہے، بازار بھی بند کیا گیا ہے، ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم اپنے بھائی سے ملیں، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھ کر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
علیمہ خان نے کہا کہ میرے خلاف بھی کیس چل رہا ہے مجھے بھی جیل میں ڈال دیں۔