صوبائی امن، استحکام و خوشحالی کیلئے یاستی اداروں سے تعاون ضروری، فیصل کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
پشاور: خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاکستان ایگزیکٹو فورم جیسے پلیٹ فارمز کاروباری شخصیات، ایگزیکٹوز اور پیشہ ور افراد کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے باہمی تعاون کے فروغ کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کو بھی استحکام ملتا ہے۔ گورنر ہاؤس پشاور میں پاکستان ایگزیکٹو فورم گلوبل ایوارڈز 2025 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور حکومت سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے ایگزیکٹو ایوارڈ حاصل کرنے والی کاروباری شخصیات کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت کے استحکام میں ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہت جلد یہ صوبہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، بہتر سرمایہ کاری کے مواقع اور معاشی ترقی کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل کرے گا، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا قدیم تہذیب و ثقافت کا امین صوبہ ہے اور یہاں معدنیات کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں، جن سے درست حکمتِ عملی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بھرپور استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
گورنر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہر محاذ پر اپنی دفاعی صلاحیت کا مؤثر اور بھرپور مظاہرہ کیا ہے اور دشمن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد بھارت نے افغانستان کا راستہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا براہِ راست متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان حکام سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔ گورنر نے ملک و قوم کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں قیامِ امن اور دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے واقعے کو افسوس ناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی میڈیا ٹاکس اور بیانات سے سیاسی دراڑیں گہری ہوتی ہیں، جس کے باعث ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کے قابل نہیں رہتے اور صوبوں کے درمیان نفرت کو فروغ ملتا ہے۔ گورنر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کے جوان روزانہ قربانیاں دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں باجوڑ میں ایک میجر نے جامِ شہادت نوش کیا، اس کے باوجود وزیراعلیٰ کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی مخالفت افسوسناک ہے۔ گورنر کے مطابق صوبے میں ہونے والے بیشتر دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی صورت غیر قانونی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کر سکتا، تاہم پاکستان چاہتا ہے کہ افغان مہاجرین قانونی طریقے سے ملک میں آئیں۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں اور پاکستان نے شواہد کے ساتھ ترکی اور قطر میں افغان حکام کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں، جن میں افغانستان کے عناصر کے براہِ راست پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت پیش کیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر صوبائی کابینہ نے سیکیورٹی آپریشنز کے لیے فنڈز مختص کیے ہیں تو یہ ایک مثبت اقدام ہے۔ گورنر نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو مشورہ دیا کہ وہ ریاستی اداروں کا ساتھ دیں تاکہ صوبے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس پوس
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی نے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کہ پاکستان کرتے ہوئے گورنر نے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔