Nawaiwaqt:
2026-06-02@22:29:58 GMT

خیبر پی کے کابینہ نے تکافل کمپنیوں کے قیام کی منظوری دیدی

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

خیبر پی کے کابینہ نے تکافل کمپنیوں کے قیام کی منظوری دیدی

پشاور (نوائے وقت رپورٹ) خیبر پی کے کابینہ نے صوبے میں اسلامی اصولوں کے تحت تکافل کمپنیوں کے قیام کی منظوری دے دی۔ خیبر پی کے جنرل تکافل کمپنی اور خیبر پی کے فیملی تکافل کمپنی قائم کی جائیں گی، احساس ایجوکیشن انٹرن شپ پروگرام شروع کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا گیا جو رواں سال 207 ملین روپے سے شروع کیا جائے گا۔ یہ پروگرام تین سال پر مشتمل ہوگا جس کے تحت ہر سال 850 قابل نوجوانوں کو سکولوں میں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ یہ منظوریاں خیبر پی کے کابینہ کے اجلاس میں دی گئیں۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے کابینہ اجلاس کے اہم فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے صوبے میں اسلامی اصولوں کے تحت تکافل کمپنیوں کے قیام کی منظوری دی۔ کابینہ نے جنرل تکافل کمپنی کے لیے 2 ارب روپے اور فیملی تکافل کمپنی کے لیے 3 ارب روپے مختص کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990ءمیں خیبر بنک کے قیام کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ صوبے میں اس نوعیت کا کوئی نیا ادارہ قائم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جنرل تکافل کمپنی صحت اور دیگر رسک سے متعلق معاملات دیکھے گی، جبکہ فیملی تکافل کمپنی خاندان کے سربراہ کی وفات کی صورت میں خاندان کی کفالت کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گی۔ معاون خصوصی نے بتایا کہ اجلاس میں خیبر پی کے سیف سٹیز منصوبے کے لیے 3,825 ملین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ سیف سٹی منصوبے کا آغاز پہلے مرحلے میں پشاور سے کیا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت اور شمالی وزیرستان سمیت مزید اضلاع کو شامل کیا گیا ہے۔

تکافل کمپنیاں

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: تکافل کمپنی خیبر پی کے کابینہ نے کی منظوری کے قیام کے لیے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی