سعودی عرب کے ساتھ نارملائزیشن اسرائیل میں کابینہ کی تبدیلی کی منتظر ہے، معاریو
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
ایتمار بن گویر، بتسلئیل اسموتریچ اور اوریت استروک کی موجودگی دو ریاستی حل کی کسی بھی بات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے برعکس، ایک دائیں بازو کے معتدل اتحاد (لیکود اور اپوزیشن کے کچھ حصوں پر مشتمل) محدود سیاسی پیش رفت کی اجازت دے سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی اخبار معاریو نے انکشاف کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض اور تل ابیب کے درمیان ممکنہ نارملائزیشن (معاہدۂ تعلقات) کے اہداف اور ٹائم لائن واضح کر دی ہیں، اور یہ پیغام سب کو دے دیا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ نارملائزیشن اسرائیل میں کابینہ کی تبدیلی کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔ خبر رساں ایجنسی تسنیم کے عبری شعبے کے مطابق، معاریو نے لکھا ہے کہ اگرچہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی کا معاملہ ایک بار پھر منظرِ عام پر آ گیا ہے، تاہم اس کے لیے امریکہ کی جانب سے انتہائی پیچیدہ سیاسی اقدامات درکار ہوں گے۔ ان میں اسرائیلی پالیسیوں میں تبدیلی اور وزیرِ اعظم اسرائیل کے گرد موجود قانونی رکاوٹوں کا خاتمہ شامل ہے۔
معاریو نے ایک امریکی امور کے ماہر کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس معاہدے تک پہنچنے کا موقع 2026 کے اوائل میں پیدا ہو سکتا ہے، اور اسے امریکی حکومت کی وسیع تر اسٹریٹجک پالیسی کے فریم ورک میں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم سعودی عرب خود کو عالمِ سنی کا رہنما سمجھتا ہے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو محض ایک محدود علاقائی قدم نہیں بلکہ عالمی سطح کی کشمکش کے بنیادی ستونوں میں سے ایک کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسی ماہر کے مطابق موجودہ اسرائیلی حکومت کے تحت کسی بھی قسم کا نارملائزیشن معاہدہ ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے ساتھ یہ ناممکن ہے، لیکن امریکی ٹائم لائن کے مطابق صدر کو ستمبر تک کسی امن معاہدے تک پہنچنا ہوگا۔
ان کے بقول، جو بھی وزیرِ اعظم اس معاہدے پر دستخط کرے گا، وہ موجودہ اتحاد کا سربراہ نہیں ہوگا۔ یہ یا تو بنیامین نیتن یاہو کسی نئی حکومت کے تحت ہو سکتے ہیں یا پھر نفتالی بینیٹ ان کے متبادل کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ امریکہ نیتن یاہو کو فیصلہ کن سیاسی مرحلے تک پہنچانے کے لیے قانونی راستہ نکالنے پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے۔ رپورٹ کے ایک اور حصے میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی سیاسی حلقوں میں بھی اسی نوعیت کا تجزیہ سننے کو مل رہا ہے۔ معاریو کی صحافی آنا بارسکی نے نومبر میں لکھا تھا کہ جب تک وزیرِ اعظم کے گرد قانونی رکاوٹیں موجود ہیں، نیتن یاہو کے پاس کسی بڑے سیاسی اقدام کا حقیقی موقع نہیں ہوگا، کیونکہ موجودہ اتحاد کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی ممکن نہیں۔
ایتمار بن گویر، بتسلئیل اسموتریچ اور اوریت استروک کی موجودگی دو ریاستی حل کی کسی بھی بات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے برعکس، ایک دائیں بازو کے معتدل اتحاد (لیکود اور اپوزیشن کے کچھ حصوں پر مشتمل) محدود سیاسی پیش رفت کی اجازت دے سکتا ہے، یعنی زیادہ بیانات، کم عملی اقدامات۔ معاریو کے مطابق، سعودی عرب واضح طور پر مضبوط دفاعی ضمانتیں، طویل المدتی سیکیورٹی وعدے اور مسئلہ فلسطین میں عملی پیش رفت کا مطالبہ کرتا ہے۔ ریاض کے نزدیک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی ایک واضح سیاسی قیمت ہے، چاہے وہ حتمی معاہدے تک نہ بھی پہنچے۔ دوسری جانب اسرائیل چاہتا ہے کہ اس اقدام کو بنیادی طور پر سیکیورٹی اور معاشی کامیابی کے طور پر پیش کیا جائے، بغیر اس کے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا کوئی واضح وعدہ کیا جائے۔ یہی دونوں فریقوں کے درمیان سب سے بڑا اختلاف ہے۔
آنا بارسکی کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے مطالبات بالکل واضح ہیں۔ سعودی عرب دفاعی ضمانتیں، طویل المدتی سیکیورٹی کمٹمنٹس اور فلسطینیوں کی سنگین حالت کو عملی طور پر تسلیم کرنے کا خواہاں ہے۔ ریاض کے نقطۂ نظر سے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی عادی سازی کا عمل لازماً فلسطینی مسئلے کے فریم ورک میں ہونا چاہیے، چاہے وہ حتمی حل تک نہ بھی پہنچے۔ اس کے برعکس، اسرائیل نے اب تک فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کو گہرا کرنے یا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی کوئی حقیقی آمادگی ظاہر نہیں کی، حالانکہ یہی شرط سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں واضح یا ضمنی طور پر شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے ساتھ تعلقات اسرائیل کے کے مطابق کسی بھی
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔