وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ سال 2025 پاکستان کے ڈیجیٹل سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا، جس کی بنیاد ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کی منظوری اور نئی قومی ڈیجیٹل ادارہ جاتی اصلاحات پر رکھی گئی۔

سال کے اختتامی پیغام میں وفاقی وزیر نے گورننس اصلاحات کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ای آفس سسٹم 39 میں سے 38 وفاقی ڈویژنز میں سو فیصد نافذ ہو چکا ہے، جس کے باعث فائلوں کی کارروائی کا دورانیہ 25 دن سے کم ہو کر صرف چار دن رہ گیا ہے اور اس نظام سے سالانہ تقریباً 9.

5 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ڈیجیٹل انفراسٹرکچر زرعی شعبے کی ترقی اور برآمدات میں اضافہ کرے گا، شزا فاطمہ

سروس ڈیلیوری کے شعبے میں شزا فاطمہ نے اسلام آباد کی پارک ایپ کی کامیابی کا ذکر کیا، جس کے صارفین کی تعداد 13 لاکھ 70 ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ اس سے 22.86 ارب روپے کی آمدن حاصل ہوئی۔ اسی طرح نیشنل جاب پورٹل پر 5 لاکھ 10 ہزار سے زائد سی ویز رجسٹر ہوئیں اور 33 ہزار سے زیادہ وفاقی ملازمتوں کے اشتہارات دیے گئے۔

صحت کے شعبے میں ‘ون پیشنٹ، ون آئی ڈی’ منصوبے کے تحت پمز اسپتال میں یومیہ او پی ڈی کی استعداد میں 3 ہزار مریضوں کا اضافہ ہوا جبکہ لیبارٹری رپورٹس کی تیاری کا وقت بھی نمایاں طور پر کم ہوا۔

وفاقی وزیر کے مطابق کنیکٹیوٹی اور انفراسٹرکچر کی ترقی ڈیجیٹل ایجنڈے کا مرکزی حصہ رہی۔ پاکستان میں ٹیلی کام صارفین کی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کر گئی، موبائل براڈبینڈ کا پھیلاؤ 60 فیصد تک پہنچ گیا اور 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد موبائل فونز مقامی سطح پر تیار کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے: 5 لاکھ نوجوانوں کی عالمی کمپنیوں کی ذریعے آئی ٹی تربیت، شزا فاطمہ نے خوشخبری سنادی

انہوں نے بتایا کہ سال کے دوران 3 نئی سب میرین کیبلز لینڈ ہوئیں جبکہ کراچی سے چین اور وسطی ایشیا تک فائبر آپٹک نیٹ ورک نے پاکستان کو علاقائی ڈیٹا ٹرانزٹ حب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان اقوام متحدہ کے ای گورنمنٹ ڈویلپمنٹ انڈیکس میں 14 درجے اوپر آ گیا۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ رائٹ آف وے اصلاحات، فائیو جی اسپیکٹرم کی فائنلائزیشن اور دیہی علاقوں میں کنیکٹیوٹی کے منصوبوں نے آئندہ دہائی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کی پہلی قومی اے آئی پالیسی منظور ہوئی، نیشنل سیمی کنڈکٹر پروگرام کا آغاز کیا گیا، 9 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کو ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی گئی اور آئی ٹی برآمدات بڑھ کر 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 2025 بنیادوں کا سال تھا جبکہ 2026 میں توجہ توسیع اور قیادت پر مرکوز ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی ٹی پاکستان شزا فاطمہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آئی ٹی پاکستان شزا فاطمہ شزا فاطمہ نے وفاقی وزیر

پڑھیں:

مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر

اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اسلام آباد نے مالی سال 26-2025 کے اختتام کے سلسلے میں ادائیگیوں، بلوں اور کلیمز کی وصولی کے لیے اہم ڈیڈ لائنز مقرر کردی ہیں۔

اے جی پی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (ڈی ڈی اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ حالیہ خریداریوں اور حاصل کی گئی خدمات کے تمام کلیمز 12 جون 2026 تک لازمی طور پر جمع کرائے جائیں۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 12 جون 2026 تک جاری کیے گئے ٹوکنز کے تحت تمام غیر منظور شدہ بلوں اور دعوؤں کو دوبارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح اے جی پی آر اسلام آباد اور اس کے ماتحت دفاتر کے زیر انتظام اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے لیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون 2026 ہوگی۔

اے جی پی آر نے واضح کیا ہے کہ 12 جون 2026 کے بعد اعزازیہ (ہونوریرئم) سے متعلق کوئی کلیم وصول نہیں کیا جائے گا۔

مزید برآں آف سائیکل ادائیگیوں کے حوالے سے کمپیوٹرائزڈ تبدیل شدہ اسٹیٹمنٹس صرف 11 جون 2026 تک وصول کی جائیں گی، جبکہ ان پر کارروائی عارضی طور پر 16 جون 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔

نوٹیفکیشن میں تمام ڈی ڈی اوز اور متعلقہ دفاتر کو تاکید کی گئی ہے کہ ادائیگیوں اور مالی معاملات میں کسی قسم کی تاخیر سے بچنے کے لیے تمام کیسز مقررہ مدت کے اندر جمع کرائے جائیں۔

اے جی پی آر نے یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہوں کے چیکس مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد (اسٹیل) تصور ہوں گے اور 30 جون 2026 کے بعد ان کے متبادل چیکس جاری نہیں کیے جائیں گے۔

ادارے نے تمام متعلقہ سرکاری دفاتر اور مالیاتی حکام پر زور دیا ہے کہ بلوں، ادائیگیوں اور کلیمز سے متعلق تمام مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مالی سال 26-2025 کے حسابات بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آخری تاریخ مقرر کلیمز مالی سال کا اختتام وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ