ڈنگروں کی طرح کھانا چھوڑ دیں، وسیم اکرم کا سال نو پر پاکستانیوں کو مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور عالمی شہرت یافتہ بولر المعروف سوئنگ کے سلطان نے سال نو کی آمد پر پاکستانیوں کو خبردار کرتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ ڈنگروں کی طرح کھانا چھوڑ دیں۔
سوئنگ کے سلطان نے سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنا ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اپنے چاہنے والوں اور تمام پاکستانیوں کی سال نو 2026 کی مبارک باد دی۔
وسیم اکرم نے اپنے ویڈیو پیغام میں خبردار کیا کہ پاکستان میں ذیابیطس کی شرح 33 فیصد پہنچ گئی، جس کا مطالب یہ ہے کہ چوتھائی قوم اس مرض سے متاثر ہوچکی ہے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ پاکستانی شوگر لیول چیک کریں ڈاکٹر کو دکھائیں اور حکمیوں کے پاس جانا بند کردیں۔
مزید پڑھیںچھت پر ٹینس بال سے کھیلنے والا بچہ سوئنگ کا سلطان کیسے بنا؟ وسیم اکرم کی دلچسپ کہانی
وسیم اکرم نے مشکلات میں گھرے بابراعظم کو خصوصی مشورہ دے دیا
Happy new year from the Akram's.
وسیم اکرم نے پاکستانیوں کو مشورہ دیا کہ ڈنگروں کی طرح کھانا چھوڑ دیں کیونکہ جان ہے تو جہان ہے۔
اپنے ویڈیو پیغام کے آخر میں وسیم اکرم نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں آپ کی اور آپ کے چاہنے والوں کی صحت اچھی رہے، نیا سال مبارک ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وسیم اکرم نے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔