بھارت،آلودہ پانی پینے سے12ہلاک،سینکڑوں بیمار
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اندور : بھارت میں آلودہ پانی پینے سے بچوں،خواتین سمیت 12 افراد ہلاک اور سینکڑوں بیمار ہوگئے جن میں 30 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
مدھیہ پردیش کے شہر اندور کے علاقے بھگیرتھ پورہ میں آلودہ پینے کے پانی سے پھیلنے والی بیماری کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 12 ہو گئی ہے، جبکہ 26 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جو آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔
یہ سانحہ 25 اور 26 دسمبر کو سامنے آیا تھا، جب درجنوں افراد قے، دست اور شدید انفیکشن کی شکایات کے ساتھ مختلف اسپتالوں میں داخل ہوئے۔
ابتدائی طور پر محکمہ صحت نے صرف چار اموات کی تصدیق کی اور آلودہ پانی سے تعلق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا رہا، جس پر شدید تنازع پیدا ہوا۔
بدھ کے روز ایک 5ماہ کے بچے کی موت کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کے اسپتال دورے کے بعد بالآخر انتظامیہ نے تسلیم کیا کہ آلودہ پانی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 12ہو چکی ہے۔
چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مادھو ہسانی کے مطابق 162 مریض 27 اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں سے 26 کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے اور ایک مریض وینٹی لیٹر پر ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں ایک 6 ماہ کا بچہ بھی شامل ہے جو والدین کا اکلوتا اور 10 سال بعد منتوں ،مرادوں کے بعد پیدا ہوا تھا۔
صورتحال کے پیش نظر مہاراجا یشونت راو ¿ اسپتال میں ایک مکمل وارڈ خالی کر دیا گیا جبکہ اوروبندو اسپتال میں 100 بستروں پر مشتمل وارڈ مخصوص کیا گیا ہے۔
کانگریس رہنما جیتو پٹواری نے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ میونسپل کارپوریشن نے زونل افسر اور ایک اسسٹنٹ انجینئر کو انکوائری کے لیے معطل کر دیا ہے۔
ریاستی حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے 2 لاکھ روپے کی امدادکا بھی اعلان کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آلودہ پانی
پڑھیں:
لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
فائل فوٹوڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نےلاہور میں بلدیاتی الیکشن کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے، جن میں 159 یونین کونسلز کا اضافہ کیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں، 2015 کے بلدیاتی الیکشن میں لاہور میں 274 یونین کونسلز تھیں۔
ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن لاہور کی ابتدائی فہرست کے مطابق راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسل قائم کی گئی ہیں۔
ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40 اور صدر کینٹ میں 29، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونین کونسل بنائی گئی ہیں۔
لاہور کے شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائر کرسکتے ہیں، حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست کو جاری ہوگی۔