سال 2025 : دنیا بھر میں 128 صحافی قتل، 533 پابند سلاسل
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے کہا ہے کہ 2025 کے دوران دنیا بھر میں 128 صحافی ہلاک ہوئے جن میں سے نصف سے زیادہ مشرق وسطیٰ میں تھے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی ایف جے کے جنرل سیکرٹری انتھونی بیلانگر نے کہا کہ یہ 2024 سے اب تک کی سنگین ترین تعداد ہے، یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ یہ ہمارے ساتھیوں کے لیے عالمی سطح پر ریڈ الرٹ ہے، علاقوں کی صورت حال انتہائی خطرناک اور قابل تشویش کیونکہ غزہ میں حماس اور اسرائیل کی جنگ میں ایک سال کے دوران 56 پیشہ ور صحافی جان سے گئے۔
سیکریٹری انتھونی بیلانگر کے مطابق ہم نے پہلے ایسا نہیں دیکھا کہ اتنے کم وقت اور چھوٹے علاقے میں اتنی اموات ہوئی ہوں، یمن، یوکرین، سوڈان، پیرو انڈیا اور دوسرے ممالک میں بھی صحافیوں کو قتل کرنے کے واقعات سامنے آئے۔
آئی ایف جے کے جنرل سیکرٹری نے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے ان لوگوں کے لیے ایک قسم کا ’استثنیٰ‘ قرار دیا جو ان کے پچھے ہیں، انصاف نہ ہونے کی صورت میں اس سے صحافیوں کے قاتلوں کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔
آئی ایف جے کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت 533 صحافی قید ہیں اور یہ تعداد پچھلے پانچ برس کے دوران دو گنا سے بھی زیادہ ہوئی ہے، چین اس بار بھی ان ممالک میں سر فہرست ہیں جہاں سب سے زیادہ صحافی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور یہ تعداد 143 ہے۔
اسی طرح ہانگ کانگ میں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں اور اس کو اختلاف رائے کو دبانے کے لیے قومی سلامتی کے قوانین لاگو کرنے پر مغربی ممالک نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
آئی ایف جے کی جانب سے مارے جانے والے صحافیوں کی گنتی رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ ان کے گنتی کے طریقہ کار میں فرق ہے، اس برس جان سے جانے والے صحافیوں میں نو ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کی موت مختلف حادثات کی وجہ سے واقع ہوئی۔
رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ اس برس اپنے کام کی انجام دہی کے دوران 67 صحافی مارے گئے جبکہ یونیسکو کی جانب سے یہ تعداد 93 بتائی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ا ئی ایف جے کے دوران
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔