اسلام آباد:(نیوزڈیسک)پاکستان میں قومی سطح پر شرحِ خواندگی 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہوگئی جبکہ اسکول سے باہر بچوں کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے جو 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی۔ پاکستان ادارہ شماریات نے ہاوٴس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (ایچ آئی ای ایس) 2024-25ء کی کامیاب تکمیل کے بعد اس کے نتائج جاری کردیے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے ہاوٴس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (ایچ آئی ای ایس ) 202425 کا باضابطہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب آج وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات میں منعقد ہوئی۔

میزبانی چیف شماریات ڈاکٹر نعیم اظفر ( ستارہ امتیاز)، محمد سرور گوندل (ستارہ امتیاز)، ممبر( ایس ایس /آر ایم ) اور رابعہ اعوان ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (PSLM/PCS) نے کی۔ تقریب میں اہم شراکت داروں تکنیکی کمیٹی کے اراکین اور وزارتِ منصوبہ بندی اور پاکستان ادارہ شماریات کے سینئر افسران نے شرکت کی۔سروے میں بتایا گیا کہ گھریلو سطح پر انٹرنیٹ رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گئی ہے، انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہوگیا ہے۔

سروے کے مطابق مکمل حفاظتی ٹیکہ جات (ریکارڈ کی بنیاد پر) کی کوریج 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی ہے اور صاف ایندھن کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے جو 35 فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزارتِ منصوبہ بندی اور پاکستان ادارہ شماریات کو کامیابی کے ساتھ جدید، ڈیٹا پر مبنی اداروں میں تبدیل کردیا گیا ہے، جو ایک نہایت حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہاوٴس ہولڈ انٹیگریٹڈ سروے اب محققین کو زیادہ بامعنی تجزیہ کرنے کے مواقع فراہم کرے گا جبکہ کاروباری برادری کو بہتر فیصلوں اور پیداوار میں بہتری کے لیے قیمتی معلومات مہیا کرے گا۔

ماضی کے معاشی چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو پہلا بڑا دھچکا 2018ء میں لگا جس کے نتیجے میں گزشتہ برسوں کی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی۔ سروے کے نتائج واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ اس مرحلے پر معاشی ترقی رک گئی اور معیشت زوال کی سمت گامزن ہو گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2022ء میں ناقص منصوبہ بندی کے باعث معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، کووڈ۔19 وبا کے بعد دنیا ایک عالمی بحران میں داخل ہوئی جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے، خصوصاً متوسط طبقہ شدید متاثر ہوا، جیسا کہ اقتصادی سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بحران کا دور اب ختم ہو چکا ہے اور پاکستان مضبوطی سے معاشی بحالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔واضح رہے کہ یہ سروے ملک کے سماجی و معاشی حالات کا جامع جائزہ فراہم کرتا ہے اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کے لیے اہم کردادار اد اکرتا ہے۔ ہاوٴس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (ایچ آئی ای ایس) 1963سے قومی اور صوبائی سطح پر سماجی و معاشی اعشاریوں کی نگرانی کر رہا ہے۔

قبل ازیں یہ سروے 2018ء-19ء میں کیا گیا تھا جس میں آمدنی اور کھپت کے رجحانات سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے۔ ایچ آئی ای ایس پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول میں پیش رفت کی نگرانی میں بھی معاون ہے، جہاں پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے رپورٹ کیے جانے والے 62 میں سے 31 اعشاریوں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستان ادارہ شماریات ایچ ا ئی ای ایس فیصد سے بڑھ کر کہا کہ

پڑھیں:

موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ

اسلام آباد: موبائل انٹرنیٹ پیکجز مہنگے ہونے سے ملک بھر کے لاکھوں موبائل صارفین کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق مختلف موبائل کمپنیوں کے متعدد کال، ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق مختلف موبائل آپریٹرز کے 15 مقبول ہائبرڈ اور ڈیٹا اونلی پیکجز کی قیمتوں میں 33 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا ہوگی۔

جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں 500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 15 روزہ پیکجز اب 300 روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔

اسی طرح ہفتہ وار ہائبرڈ پیکجز کی قیمت میں 130 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تین روزہ پیکجز 21 روپے، دو روزہ پیکجز 20 روپے اور ایک روزہ ہائبرڈ پیکجز 5 روپے تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی سہولت کے لیے تمام نئی ٹیرف تفصیلات ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہیں، جہاں مختلف موبائل کمپنیوں کے کال اور انٹرنیٹ پیکجز، ان کی مدت، قیمت اور دستیاب سہولیات کا بآسانی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کو مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکجز سے متعلق درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کی قیمتوں میں اضافے سے طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور روزمرہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع