جو ملازمین کارکردگی دکھائینگے وہی پی آئی اے میں رہینگے، عارف حبیب
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
میڈیا سے گفتگو میں معروف کاروباری شخصیت عارف حبیب نے کہا کہ کوشش ہوگی پاکستانی صرف پی آئی اے کے ذریعے سفر کریں، پی آئی اے کو حج اور عمرہ کے حوالے سے ترجیح حاصل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ معروف کاروباری شخصیت عارف حبیب نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو مفافع بخش ایئرلائن بنانے کا عزم دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ملازمین کو واضح پیغام ہے کہ جو کارکردگی دکھائے گا وہی پی آئی اے میں رہے گا۔ عارف حبیب نے نیا ناظم آباد کراچی میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) انٹر اسکولز فائنل کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کو منافع بخش ایئرلائن بنانا اولین ترجیح ہے، پی آئی اے کے ملازمین کو تحفظ دیں گے، کیونکہ پی آئی اے ملازمین کی وجہ سے ہی دنیا کی نمبر دو کامیاب ایئرلائن بنی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کو واضح پیغام ہے ملازمت کے مستقبل کا دارومدار کارکردگی پر ہوگا، جو کارکردگی دکھائے گا وہی پی آئی اے میں رہے گا۔
عارف حبیب نے کہا کہ معاہدے کے تحت پی آئی اے کا نام تبدیل نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کروڑ 40 لاکھ پاکستانی بیرون ملک رہتے ہیں، اوورسیز پاکستانیوں اور پاکستان میں ان کے اہل خانہ کی تعداد 7 کروڑ سے زیادہ بنتی ہے اور 7 کروڑ پاکستانی ایئرلائن کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوشش ہوگی پاکستانی صرف پی آئی اے کے ذریعے سفر کریں، پی آئی اے کو حج اور عمرہ کے حوالے سے ترجیح حاصل ہے۔ عارف حبیب نے کہا کہ نیا ناظم آباد کی طرح پی آئی اے میں بھی کھیلوں کو فروغ دینے ترجیح ہے، پی آئی اے میں کھیلوں کی بحالی میں وقت لگے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پی آئی اے میں نے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔