مولود کعبہ ایک اصول پسند سیاستدان
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: حضرت علی علیہ السلام کا خط مالک اشتر کے نام دنیا کا ایک عظیم سیاسی و انتظامی منشور ہے۔ اس میں انسانی حقوق، گورننس، عدالتی شفافیت، فوجی اخلاقیات، عوامی فلاح و بہبود سب کچھ موجود ہے۔ آج بھی اقوامِ متحدہ اور جدید سیاسی مفکرین اسے Ideal Governance Charter مانتے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام نے جنگ بھی اصولوں کے تحت لڑی۔ آپ خود سے جنگ کا آغاز نہیں کرتے تھے۔ زخمی پر حملہ نہیں کرتے تھے۔ بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کرتے تھے۔ عورتوں اور بچوں کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپکی سیاست اخلاقی سیاست (Ethical Politics) کہلاتی ہے۔ مسجد میں حضرت علی علیہ السلام کی شہادت اس بات کی دلیل ہے کہ سچی سیاست اکثر مظلومیت پر ختم ہوتی ہے، مگر تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ تحریر: ایس ایم شاہ
ایک اچھے سیاستدان کی بنیادی خصوصیات میں انصاف پسندی، امانت داری، پرہیزگاری، اخلاقِ حسنہ، علم و بصیرت، حق گوئی، احساسِ ذمہ داری، مشاورت، تواضع، عوام دوستی، غریب پروری، قانون کی پاسداری، ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا، سستا اور فوری انصاف، تحمل مزاجی، وعدہ وفا، مضبوط قوتِ ارادی، بروقت و برمحل فیصلہ سازی اور قائدانہ صلاحیت شامل ہیں۔ اگر تاریخِ انسانی میں ان تمام اوصاف کو کسی ایک شخصیت میں کامل صورت میں تلاش کیا جائے تو وہ بلا شبہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ذاتِ گرامی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد انسانیت کی سب سے جامع اور کامل شخصیت ہیں۔ آپ کی عظمت کا احاطہ نہ تاریخ کرسکی ہے اور نہ قیامت تک ممکن ہوگا۔ مولودِ کعبہ ہونے کے ناطے 13 رجب المرجب کی مناسبت سے حضرت علی علیہ السّلام کی سیاسی حیات کے چند روشن پہلو پیش کرنا اس تحریر کا مقصد ہے۔
آپ عدل و انصاف میں "صوت العدالۃ الانسانیۃ"، علم و بصیرت میں "انا مدینۃ العلم و علی بابھا، انا دار الحکمۃ و علی بابھا" آپ علم و حکمت کا دروازہ ہیں۔ تحمل مزاجی میں آپ بے مثال تھے۔ آپ کا حق خلافت چھن جانے اور آپ کے در اقدس کو نذر آتش کرنے کے باوجود آپ نے پچیس سال تک گوشہ نشینی اختیار کی اور کبھی بھی صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ یہ طرزِ عمل Political Tolerance کی اعلیٰ مثال ہے۔ احساس ذمہ داری میں آپ بے مثال تھے۔ آپ کے سامنے جب کھانا لایا جاتا تو فرماتے کہ میں کیسے سیر ہوکر کھانا کھاؤں، شاید حجاز اور یمامہ میں کوئی ایک لقمے کے لیے ترس رہا ہو۔ غریب پروری میں راتوں کو اپنے پیٹھ پر غریبوں، مسکینوں اور بیواؤں کے گھروں تک ہر شب خوراک پہنچاتے تھے، حدیث نبوی کی رو سے "اقضی الناس علی" یعنی بہترین فیصلہ کرنے والے علی علیہ السلام ہیں۔ مولا علی علیہ السلام کی امانت داری کے لیے اتنا کہنا کافی ہے کہ رات کے وقت آپ چراغ روشن کرکے امور حکومتی انجام دینے میں مصروف عمل تھے، اتنے میں ایک شخص آپ سے ملنے آیا تو آپ نے اس چراغ کو گل کرکے ذاتی چراغ کو روشن کیا۔
احساس ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ آپ گمنام طریقے سے کوفے کی گلیوں میں گھومتے تھے، تاکہ وہاں کے غریبوں، مسکینوں اور بیواؤں کی داد رسی کی جاسکے۔ حکومتی امور میں آپ کی مہارت کا یہ عالم تھا کہ جب مصر کے حالات خراب ہوگئے تو آپ نے حضرت مالک اشتر کو وہاں کا گورنر بنایا۔ اسے ایک خط تھمایا، جو بعد میں عہدنامہ مالک اشتر کے عنوان سے مشہور ہوا۔ اس خط کا ایک جملہ یہ ہے: اپنے دل میں لوگوں کے لیے محبت پیدا کرو، کیونکہ وہ یا تو تمہارے دینی بھائی ہے یا تمہارے ساتھ انسانیت میں مشترک ہے۔ آپ کی سادہ زیستی کا یہ عالم تھا کہ پرانے صاف ستھرے پیوند شدہ لباس زیب تن کیے ہوئے تھے۔ کسی نے کہا اے مولا، اگر آپ نیا لباس زیب تن کرتے تو آپ کی شخصیت کے مطابق ہوتا۔ فرمایا: یہ لباس دل کو فروتنی عطا کرتا ہے، تکبر سے محفوظ رکھتا ہے اور پرہیزگاروں کے لیے یہی کافی ہے۔
اگرچہ آپ سب سے زیادہ دانا اور عقلمند تھے، لیکن حکومتی امور میں آپ بسا اوقات لوگوں سے مشورہ بھی لیتے تھے۔ ایک دفعہ آپ نے حکومتی کاموں کی خاطر ایک خاص مقام سے افراد کے چناؤ سے پہلے چند تجربہ کار لوگوں کو بلاکر وہاں کے لوگوں کی امانت داری اور اجتماعی امور میں ان کی کارکردگی کے حوالے سے استفسار کیا۔ ان سے رائے لینے کے بعد فرمایا: جو بھی بغیر کسی مشورے کے کسی ذمہ داری کو اپنے ذمہ لیتا ہے، وہ اپنے آپ کو تباہی کے داہنے تک پہنچا دیتا ہے۔ مساوات کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ آپ مسجد سے نکلے تو ایک عمر رسیدہ فقیر لوگوں سے کچھ مانگ رہا تھا۔ لوگوں نے اہانت آمیز لہجے میں کہا کہ مولا! یہ شخص مسیحی ہے۔ امام علیہ السلام نے ان کی اس بات سے سخت ناراض ہوکر فرمایا: جب یہ جوان تھا تو تم لوگوں نے ان کی طاقت سے استفادہ کیا ہے۔ جب یہ کمزور ہوگیا ہے تو تم لوگ اسے چھوڑ دیتے ہو۔ یہ فرما کر بیت المال سے اس کا خرچہ دینے کا حکم دیا۔
بنابریں حضرت علی بن ابی طالبؑ کی شخصیت محض ایک مذہبی یا تاریخی شخصیت نہیں، بلکہ آپ تاریخِ انسانی میں دانش پر مبنی سیاست (Wisdom-based Politics) کا نادر نمونہ ہیں۔ آپ کی سیاست اقتدار کے حصول کے لیے نہیں، بلکہ حق، عدل، اخلاق اور انسانیت کے قیام کے لیے تھی۔ حضرت علیہ السّلام کی سیاست کا بنیادی ستون اصول پسندی تھا نا کہ مصلحت۔ آپ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ سیاست اگر اصول سے خالی ہو تو فریب بن جاتی ہے۔ آپ نے کبھی بھی حق کو مصلحت پر قربان نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے معاویہ جیسی مکار سیاست کا سہارا نہیں لیا، کیونکہ آپ جانتے تھے کہ وقتی طور پر یہ طرزِ سیاست کامیاب ہوسکتی ہے۔ آپ کا مشہور فرمان ہے: اگر دینی اصول مانع نہ ہوتے تو میں سب سے بڑا سیاست دان ہوتا۔ یہ جملہ حضرت علی علیہ السلام کی دانشمندانہ سیاست کی واضح دلیل ہے۔
حضرت علی علیہ السلام کے نزدیک حکومت غنیمت نہیں، ذاتی حق نہیں، خاندانی میراث نہیں بلکہ الٰہی امانت ہے۔ اسی لیے خلافت قبول کرتے وقت فرمایا: اگر حق کا قیام اور باطل کا خاتمہ مجھ پر لازم نہ کیا جاتا تو میں حکومت قبول نہ کرتا۔ یہ فکر جدید سیاسی فلسفے میں Public Trust Theory سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کی سیاست کا مرکز عدلِ مطلق تھا۔ عدل ایسا کہ خلیفہ اور عام شہری برابر، مسلمان اور غیر مسلم قانون کے سامنے مساوی، امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے عہد خلافت میں ایک یہودی کے ساتھ زرہ کا مقدمہ قاضی شریح کے پاس پہنچا۔ آپ کے پاس گواہ نہ ہونے کے باعث فیصلہ یہودی کے حق میں ہوا، مگر علی علیہ السلام نے اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ جس پر یہودی نے متاثر ہوکر آپ کی خلافت کو خلافت الہیہ قرار دے کر زرہ آپ کو واپس لوٹا دیا۔ یہ رویہ آپ کو Rule of Law کا بانی ثابت کرتا ہے۔
حضرت علی علیہ السّلام طاقت کو تلوار یا فوج سے نہیں، بلکہ اخلاقی اتھارٹی سے حاصل کرتے تھے۔ آپ کے نزدیک ظلم وقتی طور پر طاقتور ہوتا ہے، مگر عدل دائمی طاقت رکھتا ہے۔ اسی لیے آپ فرماتے تھے: حکومت کفر کے ساتھ باقی رہ سکتی ہے، مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔ یہ جملہ سیاسی حکمت کا شاہکار ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کی سیاسی دیانت داری کا اعلیٰ ترین نمونہ حضرت عقیلؑ کا واقعہ ہے۔ بھائی ہونے کے باوجود بیت المال سے زائد دینے سے انکار کیا۔ دہکتی ہوئی سلاخ تھامنے کا حکم دیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ رشتہ قانون سے بالاتر نہیں، سیاست میں قرابت داری کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ تصور آج کے دور میں Anti-Corruption Governance کی بنیاد ہے۔ حضرت علی علیہ السلام اشرافیہ نواز سیاست کے سخت مخالف تھے۔
آپ کی سیاست عوام دوست، غریب نواز اور کمزور طبقے کی محافظ تھی۔ آپ خود راتوں کو اناج اٹھا کر یتیموں اور بیواؤں کے گھروں تک پہنچاتے تھے۔ یہ محض ہمدردی نہیں، بلکہ Social Justice Policy تھی۔ حضرت علی علیہ السلام کا خط مالک اشتر کے نام دنیا کا ایک عظیم سیاسی و انتظامی منشور ہے۔ اس میں انسانی حقوق، گورننس، عدالتی شفافیت، فوجی اخلاقیات، عوامی فلاح و بہبود سب کچھ موجود ہے۔ آج بھی اقوامِ متحدہ اور جدید سیاسی مفکرین اسے Ideal Governance Charter مانتے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام نے جنگ بھی اصولوں کے تحت لڑی۔ آپ خود سے جنگ کا آغاز نہیں کرتے تھے۔ زخمی پر حملہ نہیں کرتے تھے۔ بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کرتے تھے۔ عورتوں اور بچوں کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی سیاست اخلاقی سیاست (Ethical Politics) کہلاتی ہے۔
مسجد میں حضرت علی علیہ السلام کی شہادت اس بات کی دلیل ہے کہ سچی سیاست اکثر مظلومیت پر ختم ہوتی ہے، مگر تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم مفکر جارج جرداق نے کہا: "قتل علی لشدۃ عدلہ" علیہ السلام کو ان کے شدید عدل کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ بنابریں حضرت علی علیہ السلام فقط سیاست دان نہیں، بلکہ سیاست کے استاد بھی ہیں۔ آپ کی سیاست ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اقتدار مقصد نہیں، ذریعہ ہے۔ اصول کامیابی سے زیادہ قیمتی ہیں۔ عدل سیاست کی روح ہے۔ اگر آج کی دنیا حضرت علی علیہ السّلام کی سیاست سے صرف چند اصول ہی اپنا لے تو ظلم کا خاتمہ، عدل و انصاف کا بول بالا اور انسانیت محفوظ ہوسکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حضرت علی علیہ السلام کی حضرت علی علیہ الس کا یہ عالم تھا کہ یہی وجہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے نہیں کرتے تھے علیہ الس لام آپ کی سیاست مالک اشتر سیاست کا اس بات لام کی کے لیے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔