فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سیف اللّٰہ ابڑو کی نااہلی کے لیے چیئرمین سینیٹ سے رجوع کرنے پر سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا ہے کہ بنیادی نقطہ یہ ہے پی ٹی آئی نے 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کی ہی نہیں۔

جیو نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عون عباس بپی تو کسی پارلیمانی میٹنگ میں تھے ہی نہیں، نہ ہی پارٹی نے کوئی لیٹر جاری کیا، نہ ہی مجھے کوئی شوکاز یا خط ملا ہے۔

سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے وزارت داخلہ کمیٹی چیئرمین کے لیے میرا نام دیا تھا، ہمارے بندوں نے حکومتی افراد سے مل کر مجھ سے کمیٹی چیئرمین شپ چھینی۔

پی ٹی آئی کا سیف اللّٰہ ابڑو کی نااہلی کیلئے چیئرمین سینیٹ سے رجوع

عون عباس بپی نے نااہلی کی درخواست چیئرمین سیکریٹریٹ میں جمع کروا دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ، شیری رحمان، اعظم نذیر تارڑ سے مل کر کمیٹی چیئرمین شپ چھینی گئی، وہ پہلے ہی پاور کمیٹی میں مجھ سے تنگ تھے لہذا مجھے داخلہ کمیٹی نہ ملنے دی۔

سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا کہ یہ سوشل میڈیا کی پارٹی بن گئی ہے، 63 اے سے متعلق مجھے کوئی خط نہیں ملا نہ ہی اس کی کوئی اطلاع ملی۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے 27ویں ترمیم کی حمایت میں ووٹ دینے پر سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کی نااہلی کے لیے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ سیف الل نے کہا ہ ابڑو

پڑھیں:

پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن