پی ٹی آئی نے 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کی ہی نہیں: سیف اللّٰہ ابڑو
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سیف اللّٰہ ابڑو کی نااہلی کے لیے چیئرمین سینیٹ سے رجوع کرنے پر سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا ہے کہ بنیادی نقطہ یہ ہے پی ٹی آئی نے 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کی ہی نہیں۔
جیو نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عون عباس بپی تو کسی پارلیمانی میٹنگ میں تھے ہی نہیں، نہ ہی پارٹی نے کوئی لیٹر جاری کیا، نہ ہی مجھے کوئی شوکاز یا خط ملا ہے۔
سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے وزارت داخلہ کمیٹی چیئرمین کے لیے میرا نام دیا تھا، ہمارے بندوں نے حکومتی افراد سے مل کر مجھ سے کمیٹی چیئرمین شپ چھینی۔
عون عباس بپی نے نااہلی کی درخواست چیئرمین سیکریٹریٹ میں جمع کروا دیے۔
ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ، شیری رحمان، اعظم نذیر تارڑ سے مل کر کمیٹی چیئرمین شپ چھینی گئی، وہ پہلے ہی پاور کمیٹی میں مجھ سے تنگ تھے لہذا مجھے داخلہ کمیٹی نہ ملنے دی۔
سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا کہ یہ سوشل میڈیا کی پارٹی بن گئی ہے، 63 اے سے متعلق مجھے کوئی خط نہیں ملا نہ ہی اس کی کوئی اطلاع ملی۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے 27ویں ترمیم کی حمایت میں ووٹ دینے پر سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کی نااہلی کے لیے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ سیف الل نے کہا ہ ابڑو
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔