بلغاریہ نے ملکی کرنسی ترک کرکے نیا سال کا جشن منایا؛ اب کونسی کرنسی ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
بلغاریہ نے یکم جنوری 2026 کا آغاز ہوتے ہی آدھی رات کو اپنی 19 ویں صدی سے سکہ رائج الوقت کرنسی ’’لیو‘‘ کو خیرباد کہہ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بلغاریہ نے باضابطہ طور پر یورو کو اپنی قومی کرنسی کے طور پر اپنا لیا اور یوں یورو زون میں شامل ہونے والا وہ 21 واں ملک بن گیا۔
یہ اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب ملک نے آدھی رات کو اپنی پرانی کرنسی لیو (Lev) کو ترک کر دیا، جو انیسویں صدی کے اواخر سے استعمال ہو رہی تھی۔
اس موقع پر دارالحکومت صوفیہ میں بلغاریہ کے مرکزی بینک کے سامنے جشن کا سماں تھا جہاں شدید سردی کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔
مرکزی بینک کی عمارت پر بلغاریہ کے یورو سکے کی تصاویر روشن کی گئیں اور شاندار رنگا رنگ آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔
اس طرح نئے سال کے ساتھ ساتھ یورو کلب میں شمولیت کا جشن بھی منایا گیا۔ جس نے اس تاریخی لمحے کو مزید یادگار بنا دیا۔
یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لاگارڈ نے بلغاریہ کو یورو فیملی میں خوش آمدید کہتے ہوئے اس فیصلے کو یورپی اتحاد کے لیے اہم قدم قرار دیا۔
بلغاریہ کی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے ملک کی کمزور معیشت کو استحکام ملے گا، مغربی اداروں کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوں گے اور بیرونی اثر و رسوخ، خصوصاً روسی دباؤ سے بچاؤ ممکن ہوسکے گا۔
البتہ عوام کی بڑی تعداد نے خدشہ ظاہر کیا ہے یورو اپنانے سے مہنگائی کا طوفان آئے جو پہلے سے غربت میں پسے عوام کے لیے کڑا امتحان ہوگا۔
خیال رہے کہ تقریباً 64 لاکھ آبادی کے ساتھ بلغاریہ اب بھی یورپی یونین کا غریب ترین رکن سمجھا جاتا ہے۔
صدر رومین رادیف نے آدھی رات کو قوم سے خطاب میں یورو کو یورپی یونین میں بلغاریہ کے انضمام کا آخری مرحلہ قرار دیا لیکن انھوں نے اس فیصلے پر عوامی ریفرنڈم نہ کرانے پر تنقید بھی کی۔
ان کے بقول یہ بات سیاسی اشرافیہ اور عوام کے درمیان گہری خلیج کی علامت ہے، جس کا اظہار ملک گیر مظاہروں سے بھی ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ سیاسی عدم استحکام کے شکار ملک بلغاریہ میں گزشتہ ماہ بدعنوانی کے خلاف مظاہروں کے نتیجے میں قدامت پسند حکومت کا خاتمہ ہوا اور 5 برسوں میں آٹھویں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چین کی معروف کمپنی فیمسن کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں غذائی تحفظ، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور فوڈ اسٹوریج کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے چینی وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعاون سے یہ دوستی مزید مستحکم ہوگی۔شہباز شریف نے فیمسن کی جانب سے پاکستان میں اجناس کے اسٹوریج مراکز کو جدید اسٹیٹ آف دی آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف ہوگی، غذائی تحفظ میں بہتری آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ان منصوبوں میں پاکستان کی افرادی قوت کی ہنرمندی اور پیشہ ورانہ تربیت کو بھی شامل کیا جائے تاکہ مقامی افرادی قوت جدید زرعی ٹیکنالوجی سے مستفید ہو سکے۔فیمسن کے چیف ایگزیکٹو جیک چین نے پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کے حالیہ دور چین کے دوران ہونے والی ملاقات کے نتیجے میں وہ پاکستان آئے ہیں تاکہ غذائی تحفظ سے متعلق قابلِ عمل منصوبوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرپراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی اسلام آباد بار سے ہو گی:اعظم نذیر تارڑ اگلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم