حیدر آباد میں پتنگ بازی پر 90 روز کیلئے پابندی
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
سٹی 42: حیدر آباد میں پتنگ بازی پر دفعہ 144 کے تحت 90 روز کیلئے پابندی عائد کردی گئی۔
کشمنر حیدر آباد فیاض عباسی کے مطابق پتنگ بازی، پتنگ سازی، فروخت اور ذخیرہ کرنے پر پابندی ہوگی۔ پابندی کا اطلاق یکم جنوری سے 31 مارچ تک ہوگا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ سندھ بھر میں منانے کا اعلان
نوٹیفکیشن کے مطابق یکم جنوری سے 31 مارچ تک عوامی و نجی مقامات پر پتنگ اُڑانے، پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت، تیاری اور ذخیرہ اندوزی پر پابندی ہوگی، پتنگ بازی سے متعلق کسی بھی قسم کی سرگرمی یا اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی،خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ تھانے کا انسپکٹر دفعہ 188 پی پی سی کے تحت کارروائی کا مجاز ہوگا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سندھ جانے کی تیاری، دورہ کی تاریخ کا اعلان
کشمنر حیدر آباد نے مزید کہا کہ کیمیکل و دھاتی ڈور انسانی زندگیوں کیلئے خطرے کا باعث ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پتنگ پابندی پتنگ پتنگ پابندی پابندی پتنگ پتنگ پابندی پتنگ پتنگ بازی
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔