ایک اور معصوم بچے کی موت
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260102-03-4
قاسم جمال
سال 2025 جاتے جاتے کراچی کے شہریوں کو ایک بار پھر افسردہ اور غم میں ڈبو گیا۔ شاہ فیصل ٹاؤن یونین کونسل مہران ٹاؤن کورنگی کی حدود میں کھلے مین ہول میں ایک اور ماں کا لخت ِ جگر آٹھ سالہ دلبر علی گر کر ہلاک ہوگیا۔ رواں برس یہ 27 واں بچہ ہے جو کھلے مین ہول کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ابھی ایک ماہ قبل ہی نیپا چورنگی کے قریب والدین کے ہمراہ شاپنگ مال پر خریداری کے لیے آنے والا معصوم بچہ ابراہیم بھی کھلے مین ہول میں گر کر ہلاک ہوگیا تھا۔ ابراہیم کی اس المناک موت پر پورے شہر میں بڑا غم وغصہ پایا جاتا تھا۔ میئر کراچی نے اس کا ذمے دار جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمین کو ٹھیرایا جبکہ یہ علاقہ سٹی گورنمنٹ کی حدود میں آتا ہے۔ تحریک انصاف کے سابق رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان نے تو تمام حدود کو پھلانگتے ہوئے جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمین ڈاکٹر فواد احمد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بات کی۔ اب جب کہ مہران ٹاؤن میں ایک اور المناک المیہ رونما ہوا ہے۔ آٹھ سالہ دلبر علی اپنے ماں باپ کا اکلوتا بچہ تھا۔ دلبر علی کی ہلاکت پر اس کے والدین غم سے ڈوبے ہوئے تھے اور نوحہ کناں تھے۔ ان کا غم اور دکھ کسی سے دیکھا نہیں جا رہا تھا۔ جائے واقعہ پر ایک اور تماشا رونما ہوا کہ پیپلز پارٹی والے تحریک انصاف کو اور تحریک انصاف والے پیپلز پارٹی والوں کو اس واقعہ کا ذمے دار ٹھیرا رہے تھے۔ ایسے میں تحریک انصاف کے عالمگیر خان کہیں نظر نہیں آئے۔ سانحہ نیپا پر تو وہ جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمین ڈاکٹر فواد احمد کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی باتیں کر رہے تھے لیکن شاہ فیصل ٹاؤن میں تو تحریک انصاف کا چیئرمین گوہر خٹک موجود ہے۔ عالمگیر خان میں کیا اتنی جرأت اور ہمت ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے ٹاؤن چیئرمین کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرائیں۔
کراچی کے عوام عالمگیر خان جیسے شعبدہ بازوں سے تنگ آچکے ہیں اور انہیں اچھی طرح پہچان بھی چکے ہیں۔ کراچی کے باسی پہلے ہی ڈمپر، ٹینکر اور ٹرالروں کے نیچے کچلے جارہے ہیں اور اب ان کے معصوم بچے بھی محفوظ نہیں رہے۔ ان کے بچے آئے دن کھلے مین ہول میں گر کر ہلاک ہورہے ہیں۔ ایسے حالات میں شہری حکومت، ٹاؤن اور یوسیز پر الزام تراشیوں کے بجائے مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے۔ میئر کراچی یوسیز کو صرف ایک لاکھ روپے مین ہول کے کور لگانے کی مد میں دے کر بری الزمہ نہیں ہوسکتے۔ کراچی میں اس وقت ایک لاکھ کے قریب مین ہولوں کے ڈھکن غائب ہیں۔ شہر میں لاکھوں کی تعداد میں ہیرونچی موالی اور پوڈری موجود ہیں جو کہ اپنے نشے پانی کے لیے گٹروں کے ڈھکن چوری کر اس کا سریا بیچ دیتے ہیں۔ صبح مین ہول پر کور رکھا جاتا ہے اور یہ کور رات کو غائب ہو جاتا ہے۔ ایسے میں میئر کراچی، ٹاونز چیئرمین اور یوسیز چیئرمین کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور شہر کے اس اہم مسئلے کاحل نکالنا چاہیے تاکہ ہمارے پیارے اور معصوم بچوں کی زندگیاں محفوظ رہیں۔ اس مسئلے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ واٹر کارپوریشن، بلدیہ عظمی کراچی، ٹاونز اور یوسیزسب مل کر پلاسٹک کے مین ہولز کے کور تیار کریں اور ایک ایک گلی کوچے میں موجود کھلے مین ہولوں پر یہ کور رکھے جائیں۔ ایک ماہ تک کوئی ترقیاتی کام نہ کیا جائے اور سارے وسائل مین ہول کے کور تیار کرنے میں لگائے جائیں کیونکہ ایک انسانی جان سے زیادہ کوئی کام ضروری نہیں ہے تاکہ اب کسی ماں اور باپ کا لخت جگر ان سے اب نہ جدا ہو۔ اب کسی ماں کی گود نہ اُجڑے اور معصوم بچوں کی زندگیاں محفوظ رہے۔
کراچی میں کھلے برساتی نالے بھی موت کی وادی بنے ہوئے ہیں۔ ابھی چند دن قبل ہی زمان ٹاؤن کورنگی میں ایک ضعیف العمر شخص کھلے برساتی نالے میں گر کر موقع پر ہی ہلاک ہوگیا اور اس طرح کے نالے جن کی اطراف کی دیواریں ٹوٹ چکی ہیں اور یہ ٹوٹی دیواریں خطرناک شکل اختیار کر چکی ہیں۔ پچاس پچاس سال ہوچکے ہیں ان برساتی نالوں کی تعمیر کو لیکن اس کے بعد ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے نہ ہی ان کی مرمت ہوسکی اور نہ ان کی صحیح طریقے سے صفائی ہوسکی ہے۔ اس کے علاؤہ برساتی نالوں پر قائم تجاوزات نے بھی حالات کو انتہائی سنگین اور خطرناک بنا دیا ہے۔ جب بھی برساتی نالوں کی صفائی کے لیے عملہ آتا ہے یہ قابضین عملے کی جیب گرم کر دیتے ہیں اور شہری حکومت کا عملہ تجاوزات کے خاتمے کے بغیر وہاں سے چلا جاتا ہے۔ اگر ان برساتی نالوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ اس کی ٹوٹی دیواروں کی تعمیر نہ کی گئی تو کسی وقت بھی کوئی بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر کھلے مین ہولوں پر کور رکھے اور شہر کے تمام برساتی نالوں کی ٹوٹی ہوئی دیواروں کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے۔ معصوم بچے ابراہیم کے بعد ایک اور 8 سالہ معصوم بچے دلبر علی کی المناک موت نے پورے شہر کو سوگوار کردیا ہے اور نیا سال ان بچوں کے والدین کی خوشیوں کے بجائے ان کے لیے غم اور الم کا سال بن کر آیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ٹاو ن چیئرمین برساتی نالوں کی کھلے مین ہول تحریک انصاف عالمگیر خان معصوم بچے دلبر علی ہیں اور ایک اور کے لیے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔