لاڑکانہ میں پولیس اہلکار نے پیپلزپارٹی کے کارکن اور 8 بچوں کے باپ کو سرعام گولیاں ماردیں
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں زندگی کی فریاد کرنے والے شہری اور پیپلزپارٹی کے زخمی کارکن علی گوہر کلہوڑو کو پولیس اہلکار نے سرعام گولیاں مار کر قتل کردیا۔
تفصیلات کے مطابق قمبر شہداد کوٹ کوٹ سے تعلق رکھنے والے پی پی کے کارکن اور 8 بچوں کے باپ، پیشے کے اعتبار سے کاشت کار کو پولیس اہلکار عرض محمد جتوئی نے سرعام گولیاں مار کر قتل کردیا۔
عینی شاہدین کے مطابق متوفی موٹرسائیکل پر سوار تھا جس نے اہلکار کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی مگر ایک نہ سنی گئی اور اہلکار نے بہت قریب سے سرعام گولیاں مار دیں۔
پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے روز واقعہ پیش آیا، جس میں قمبر شہداد کوٹ سے تعلق رکھنے والے ملزم کے حملے میں پولیس اہلکار زیب جتوئی زخمی ہوا۔
مزید پڑھیںلاڑکانہ میں پولیس اہلکار نے پیپلزپارٹی کے کارکن اور 8 بچوں کے باپ کو سرعام گولیاں ماردیں
ذرائع کے مطابق پولیس اہلکار کے بھائی موقع پر پہنچے اور سرعام گولیاں مار دیں۔
اہل خانہ کے مطابق واقعہ چار روز پہلے پیش آیا، ڈی آئی جی لاڑکانہ کی سربراہی میں واقعے کی تحقیقات کیلیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے جبکہ ایس ایس پی لاڑکانہ کی ہدایت پر پولیس اہلکار عرض محمد کو گرفتار کر کے ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پولیس اہکار نے گولیاں مارتے ہوئے کہا کہ اس نے ہمارے بچوں سے جھگڑا کیا، پھر ملزم کو پکڑ کر تین سے چار گولیاں ماریں۔
انہوں نے بتایا کہ ایس پی نے قانونی کارروائی کیلیے ورثا کو بلا لیا تاکہ اہلکار کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید کارروائی کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرعام گولیاں مار پولیس اہلکار اہلکار نے کے مطابق
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔