data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) توانائی اور ٹیکنالوجی سے متعلق مشاورتی خدمات فراہم کرنے والے دبئی میں مقیم ادارے ماؤنٹین وینچرز نے اپنی تازہ ترین رپورٹ بعنوان پاکستان او ایم سیز ریویو 2025 میں خبردار کیا ہے کہ اگر ڈھانچہ جاتی تقسیم کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو پاکستان کا آئل مارکیٹنگ سیکٹر زبردستی بندشوں اور بے ترتیب انضمام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔رپورٹ میں امریکی ایئر لائن انڈسٹری کے ساتھ مماثلت ظاہر کی گئی ہے جو منافع کے مارجن میں شدید کمی، سرمایہ کاری میں تاخیر، بار بار دیوالیہ پن اور زبردستی انضمام کا شکار ہوئی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا آئل مارکیٹنگ (او ایم سی) سیکٹر اب وہی ڈھانچہ جاتی انتباہی علامات ظاہر کررہا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں 44 لائسنس یافتہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں موجود ہیں لیکن فروخت کے مجموعی حجم کا 60 فیصد صرف تین کمپنیوں کے پاس ہے، 95 فیصد دس کمپنیوں کے پاس اور 98.

5 فیصد بیس کمپنیوں کے پاس ہے۔ باقی ماندہ چھوٹی کمپنیوں کی طویل فہرست کے پاس بڑے پیمانے پر کام کرنے کی صلاحیت نہیں اور وہ بنیادی طور پر قیمتوں میں رعایت کے ذریعے مقابلہ کرتی ہیں جس سے پورے شعبے کا منافع کم ہورہا ہے اور قوانین کی پاسداری، سسٹمز اور ریٹیل انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی ترغیب کمزور پڑرہی ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ انضمام بہرحال ہوکر رہے گا۔ اب صرف سوال یہ ہے کہ کیا یہ وقت سے پہلے اور منظم طریقے سے ہوتا ہے، یا پھر مالی دباؤ، کمپنیوں کی بندش اور مارکیٹ میں افراتفری کے نتیجے میں تاخیر سے عمل میں آتا ہے۔پاکستان کے آئل مارکیٹنگ سیکٹر نے 2025 میں فروخت کے حجم میں ٹھوس اضافہ ریکارڈ کیا ہے جہاں گاڑیوں کی تعداد میں اضافے اور مستحکم طلب کی بدولت پٹرول ، ڈیزل اور ہائی اوکٹین کی فروخت سالانہ بنیادوں پر تقریباً 10 فیصد اضافے کے ساتھ 14.0 ملین میٹرک ٹن سے بڑھ کر 15.4 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس کے باوجود، ریگولیٹڈ قیمتوں (حکومتی کنٹرول)، مسلسل ڈسکاؤنٹنگ اور بڑھتے ہوئے سرمایہ کاری کے تقاضوں کے باعث صنعت کی معاشی حالت مزید مشکل ہوتی جارہی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس اور سیلز ٹیکس کی وصولی سے متعلق جاری غیر یقینی صورتحال نے ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو بڑھا دیا ہے جبکہ ڈیجیٹلائزیشن اور قوانین کے نفاذ پر ریگولیٹری زور اس بات کا اشارہ ہے کہ اب منافع کے مارجن میں ریلیف تمام کمپنیوں کو یکساں دینے کے بجائے صرف ان کمپنیوں کو دیا جائے گا جو قوانین کی پاسداری سے منسلک شرائط پوری کریں گی۔رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ آپریشنل سطح پر کمپنی کی اپنی اسٹوریج (ذخیرہ اندوزی) کی گنجائش اور ریٹیل نیٹ ورک کا معیار پائیدار ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں بن کر ابھرے ہیں۔ پٹرول کی اسٹوریج کی کمی کی وجہ سے نئے آؤٹ لیٹس (پٹرول پمپس) کھولنے میں دشواری پیش آرہی ہے جس کی وجہ سے اب محض نیٹ ورک کو پھیلانے کے بجائے موجودہ نیٹ ورک کو بہتر بنانے کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔رپورٹ میں یہ رائے دی گئی ہے کہ آرامکو ، گنور اور وافی انرجی جیسے عالمی برانڈز کی آمد سے صارفین کے انتخاب پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے چونکہ ایندھن کی قیمتیں اب بھی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، اس لیے یہ عالمی کمپنیاں قیمت کے بجائے اپنے اعلیٰ معیار اور بہترین تجربے کے ذریعے صارفین کو اپنی طرف متوجہ کریں گی۔رپورٹ کے مطابق مستقبل کی جانب دیکھیں تو، انضمام ، ریشنلائزیشن اور کیپٹل ڈسپلن سے متعلق فیصلے اس شعبے کے آئندہ مرحلے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اب کامیابی کا دارومدار صرف طلب میں اضافے پر نہیں، بلکہ کام کے پھیلاؤ، مالیاتی استحکام اور عملی صلاحیت پر ہوگا۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا ئل مارکیٹنگ ہے رپورٹ میں کے پاس

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان