پاکستان کا آئل مارکیٹنگ سیکٹر بندشوں کی طرف بڑھنے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) توانائی اور ٹیکنالوجی سے متعلق مشاورتی خدمات فراہم کرنے والے دبئی میں مقیم ادارے ماؤنٹین وینچرز نے اپنی تازہ ترین رپورٹ بعنوان پاکستان او ایم سیز ریویو 2025 میں خبردار کیا ہے کہ اگر ڈھانچہ جاتی تقسیم کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو پاکستان کا آئل مارکیٹنگ سیکٹر زبردستی بندشوں اور بے ترتیب انضمام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔رپورٹ میں امریکی ایئر لائن انڈسٹری کے ساتھ مماثلت ظاہر کی گئی ہے جو منافع کے مارجن میں شدید کمی، سرمایہ کاری میں تاخیر، بار بار دیوالیہ پن اور زبردستی انضمام کا شکار ہوئی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا آئل مارکیٹنگ (او ایم سی) سیکٹر اب وہی ڈھانچہ جاتی انتباہی علامات ظاہر کررہا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں 44 لائسنس یافتہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں موجود ہیں لیکن فروخت کے مجموعی حجم کا 60 فیصد صرف تین کمپنیوں کے پاس ہے، 95 فیصد دس کمپنیوں کے پاس اور 98.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ئل مارکیٹنگ ہے رپورٹ میں کے پاس
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔